خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 198
خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء شک نہیں کہ بعض اوقات انسان با وجود اخلاص اور محبت رکھنے کے ایسی بات کر جاتا ہے جو نقصان رساں ہوتی ہے۔دیکھو اُحد کے موقع پر صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے شہر سے باہر چلئے ورنہ دشمن کہے گا یہ لوگ مسلمان ہو کر بزدل ہو گئے ہیں۔کتنی نیک نیتی اور اخلاص سے یہ مشورہ دیا گیا وہ جانتے تھے کہ باہر جانے میں ہماری جانوں کا زیادہ نقصان ہوگا، زیادہ تکلیف برداشت کرنا پڑے گی مگر کہتے ہیں ہم جانیں دے دیں گے لیکن اسلام پر حرف نہ آنے دیں گے۔اس مشورہ میں بڑے بڑے بزرگ صحابہ شامل تھے جن کی تعریف خود خدا تعالیٰ نے کی مگر اُس وقت ان کے اخلاص نے ہی اُن کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور وہ یہ نہ خیال کر سکے کہ ہمارا یہ مشورہ دینا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کا رڈ ہے۔اسی طرح ریز ولیوشن پیش کرنے والوں نے دیکھا کہ جہاں میں گیا خدا کے فضل سے سلسلہ کو فائدہ پہنچا تو یہ خواہش کی کہ امراء کو تبلیغ کرنے میں بھی فائدہ ہوگا کیونکہ گو ہم غریب ہیں مگر کئی لاکھ کے امام کو ملنے سے بڑے سے بڑے امیر کو بھی عار نہیں ہو سکتی اس لئے اُمراء کو اس طرح بہت فائدہ ہوگا اس لئے اُنہوں نے یہ تجویز پیش کی۔میرے نزدیک یہ سوال کہ اس بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ کیا تھا؟ اس کا صحیح جواب دیا جا چکا ہے۔آپ کا اُسوہ یہ تھا کہ جب کوئی اجتماع ہوتا اور آپ ضرورت سمجھتے تو وہاں تشریف لے جاتے۔حج کے موقع پر جو لوگ آتے اُن کو آپ تبلیغ کرتے ، ایک دفعہ طائف بھی تشریف لے گئے۔اب یہ طریق موجودہ حالت پر کہاں تک چسپاں ہوسکتا ہے؟ یہ دیکھنے والی بات ہے۔اگر کوئی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ ثابت ہو جائے تو چاہے زمانہ بدل جائے ، ہم اس کو نہیں ترک کر سکتے کیونکہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہیں نہ کہ زمانہ کے۔اور ہم ان لوگوں میں سے نہیں جن کا عمل اس کے مطابق ہوتا ہے کہ زمانہ با تو نہ سازد تو با زمانہ بساز سے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے اگر آپ کا یہی اُسوہ ہے کہ تہہ بند گھٹنوں تک باندھا جائے یا صرف لنگوٹ ہو تو چاہے زمانہ کچھ کہے ہم تو لنگوٹ ہی باندھیں گے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ آپ کا اُسوہ تھا یا نہیں؟ اور ہر حالت میں تھا یا اگر حالات بدل جائیں تو وہ بات بھی بدلی جاتی تھی؟