خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 197
خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء کرنے دیں گے۔میرے نزدیک وہ امور جو خلیفہ کی ذات سے وابستہ ہیں اُن میں اِس قسم کی مداخلت بھی درست نہیں ہوسکتی۔در حقیقت سلسلہ کے سب امور کا ذمہ وار خلیفہ ہے۔بعض کے متعلق یہ ہوتا ہے کہ خلیفہ خود نہیں کرتا دوسروں سے کراتا ہے اور بعض خلیفہ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اُن کا کرنا یا نہ کرنا اوروں سے تعلق نہیں رکھتا۔اس مجلس میں کسی ایسے امر کو پیش کرنا گو یہ نہیں کہلاتا کہ جبر اس میں پایا جاتا ہے لیکن اس سے یہ احتمال ضرور ہے کہ اس قسم کے ریزولیوشن سے آہستہ آہستہ اس بات کی جرات پیدا ہو کہ خلیفہ کے اعمال کی حد بندی کرنے کے لئے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں کیونکہ یہ تجویز خلیفہ کے اعمال کے متعلق ہے۔جو اساس عمل ہے اُس کے خلاف ہے۔بحث کسی کی ہتک کے طور پر نہیں کی گئی مگر اس کا نتیجہ تو یہ ہے کہ خلیفہ کے اعمال پر بحث ہو۔اور اگر اس طریق کو جاری رکھا گیا تو ہوسکتا ہے کہ کل یہ التجاء اور درخواست پیش ہو کہ ہم تجویز کرتے ہیں فلاں فلاں قسم کے خطوط کا جواب خلیفہ خود دیا کرے۔مطلب یہ کہ وہ امور جن کا فیصلہ صرف خلیفہ کی رائے کر سکتی ہے اور اُس کی مرضی پر منحصر ہے کہ مجلس مشاورت بلائے یا نہ بُلائے وہی مجلس خلیفہ کے اعمال کی حد بندی کرتی ہے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ تجویز پیش کرنے والوں کی نیت یہی تھی مگر اس بات سے متفق ہوں جو ذوالفقار علی خاں صاحب نے بیان کی ہے۔چنانچہ میں نے اس کے متعلق جو نوٹ تقریر کرنے کے لئے لکھے تھے اُن میں یہ بات موجود ہے۔تجویز کرنے والوں کا اخلاص اس بات کو برداشت نہیں کرتا مگر اس ریزولیوشن کو اگر کوئی غیر دیکھے گا تو وہ یہی کہے گا کہ اس میں کمزور طاقت نے زبر دست حاکم کو توجہ دلائی ہے جسے اپنے فرائض کی طرف خیال نہ تھا۔پس یہاں اس وقت یہ سوال در پیش ہے کہ دُنیا اس ریزولیوشن سے کیا نتیجہ نکالے گی۔کسی کے اخلاص پر حملہ نہیں، کسی کی نیت پر حملہ نہیں ہے مگر جو بھی اس ریزولیوشن کو سنے گا اُس پر یہی اثر ہوگا کہ خلیفہ کی طرف سے غفلت ہو رہی تھی جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔پس یہ کہنا تو غلط ہے کہ ریزولیوشن پیش کرنے والوں نے ہتک کی جب تک ان کے دوسرے اعمال سے یہ بات ظاہر نہ ہو اُن کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا اور جب کہ ان کے دوسرے اعمال سے اخلاص ظاہر ہوتا ہو تو پھر ہتک کا خیال بھی نہیں آ سکتا۔مگر اس میں بھی