خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 192

خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۴ را پریل کو پہلے اجلاس کی کارروائی کا آغاز دُعا سے کرنے کے بعد حضور نے فرمایا: - دوستوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب کسی امر کے متعلق مشورہ طلب کیا جائے تو تقریر کرتے ہوئے اختصار سے کام لیں۔ایک ہی بات کو دُہرائیں نہیں۔شاید اس ہال کا ی نقص ہے کہ سب دوستوں تک آواز نہیں پہنچتی۔اس لئے وہ سمجھتے ہیں یہ بات کسی نے پیش نہیں کی اور کر دیتے ہیں۔اس وجہ سے ایک ہی بات کئی کئی بار دہرائی جاتی ہے اس طرح کام بہت لمبا ہو جاتا اور وقت کے اندر ختم نہیں ہوسکتا۔پس دوستوں کو چاہئے کہ پہلے کوئی دوست جس دلیل کو پیش کر چکا ہو اُسی کو بار بار نہ پیش کیا جائے۔بولنا چونکہ ووٹ کے مترادف نہیں اس لئے اگر نہ بولیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔بولنے کے متعلق قاعدہ یہی ہے کہ جو شخص پہلے بولنے کے لئے کھڑا ہوا سے پہلے موقع دیا جائے اور جو بعد میں کھڑا ہوا سے بعد میں۔اس بات کا فیصلہ چوہدری صاحب کریں گے۔اگر غلطی بھی لگ جائے تو کسی کو حق نہیں ہوگا کہ کہے میں پہلے بولوں گا۔ان کا فیصلہ ماننا ہوگا۔پھر اگر کسی موقع پر بات لمبی ہو جائے تو دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد ہو سکتا ہے کہ گفتگو بند کر دی جائے اور رائے لے لی جائے۔6◉ کل جور پورٹیں پڑھی گئی تھیں یا جن سوالات کے جواب دیئے گئے تھے ان کے متعلق اختصار کے ساتھ جو دوست سوال کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔اختصار اس لئے کہتا ہوں کہ ایسے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا جا سکتا۔ایسے سوالات کا جواب آفیسر بھی مختصر ہی دے سکیں گے۔“ اس کے بعد سوال وجواب کا Session ہوا جس کے دوران حضور نے ایک اہم امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا :- دو اور سوالات کے جواب تو ہو گئے ہیں ایک سوال جو نمائندہ کراچی کی طرف سے کیا گیا ہے وہ چونکہ اساس کار کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے اس لئے اس کا جواب میں خود دیتا