خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 190

خطابات شوری جلد اوّل ۱۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء کرتے ہیں؟ لیکن علاوہ اس کے وہ سلسلہ کے مفتی بھی ہیں۔فتوے لکھتے ہیں، درس بھی دیتے ہیں جب گلا کی خرابی اور بیماری کی وجہ سے میں درس نہیں دے سکتا۔آجکل رمضان میں ایک پارہ سے زیادہ روزانہ درس دیتے ہیں۔اس کے علاوہ باہر سے جو اعتراض آئیں اُن کے جواب بھی لکھ دیتے ہیں۔ان کے یہ کام بطور چندہ کے ہوتے ہیں۔پھر شیخ عبدالرحمن صاحب مصری ہیں وہ یہاں کے قاضی ہیں۔مقدمات میں وقت دیتے ہیں، پھر مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔میرے نزدیک ہیڈ ماسٹری ایک ایسا ذمہ داری کا کام ہے کہ اس کے ساتھ اور کوئی کام سپرد نہ کرنا چاہئے۔ہیڈ ماسٹر لڑکوں کی اخلاقی حالت کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے اور اس کے لئے اُسے ہر وقت خیال رکھنا پڑتا ہے۔اس کے بعد ہمارا حق نہیں کہ ان سے کسی اور کام کا مطالبہ کریں مگر وہ مقدمات کا کام بھی کرتے ہیں، بعض سوالات کے جواب بھی لکھاتے ہیں ،خزانہ کے امین بھی ہیں۔پھر مولوی محمد اسمعیل صاحب ہیں جو علاوہ مدرسہ کے کئی کام کرتے ہیں، کئی لوگوں کو پڑھاتے ہیں ، قرآن کریم کے ترجمہ میں میرے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں جس میں روزانہ تین چار گھنٹے ان کے صرف ہوتے ہیں۔ان کے سوا اور کوئی عالم نہیں جو مشہور ہو اور جس کے متعلق سوال ہو سکے کہ وہ کیا کرتا ہے۔باہر سے جب لوگ حافظ صاحب یا ان علماء میں سے کسی کو بُلاتے ہیں اور یہاں سے لکھا جاتا ہے وہ فارغ نہیں، تو سمجھتے ہیں کوئی بڑی کتاب لکھ رہے ہوں گے لیکن کچھ عرصہ کے بعد جب کوئی کتاب نہیں نکلتی تو کہتے ہیں کیا کرتے رہتے ہیں؟ باہر آتے نہیں اور کوئی کتاب لکھتے نہیں ، حالانکہ ان کے سپر داور کام ہوتے ہیں۔پس اس قسم کی باتوں کی وجہ سے باہر کے لوگ خیال کرتے ہیں کہ علماء چادر تان کر سوئے رہتے ہیں۔چونکہ یہ سوال ایک اہم سوال تھا کیونکہ سلسلہ کا انحصار علماء پر ہوتا ہے اور یہ ان کے متعلق بدظنی تھی اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کا جواب خود بیان کروں۔اس کے بعد میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ابھی بخارا سے محمدامین صاحب کی رجسٹری آئی ہے جس سے گم شدہ بھائی کے متعلق تشویشناک باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔میں ابھی ان کا اظہار نہیں کرنا چاہتا مگر دُعا کے لئے کہتا ہوں۔احباب دُعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمارے