خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 177

خطابات شوری جلد اوّل ۱۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء کو ہدایت پہنچانے کے لئے ایک مختصر سا اخبار جاری کرنا ہے جو نو جوانان جماعت کے شبہات کا ازالہ کر سکے اور ایسا طبقہ کہ جو لمبا لٹریچر نہیں پڑھ سکتا یا جسے اسلام سے اتنی محبت نہیں ہے کہ اس کے لئے کچھ زیادہ خرچ کر سکے وہ آٹھ آنہ یا ایک روپیہ سالانہ قیمت کا اخبار خرید سکے طالبعلموں کے لئے اس سے بھی کم قیمت رکھی جاسکتی ہے۔مساجد کی تعمیر ایک اور قابل غور سوال مساجد کی تعمیر ہے۔مگر عجیب بات ہے یہ تجویز بیت المال کے ماتحت ایجنڈا میں رکھی گئی ہے۔حالانکہ مساجد کی تعمیر تعلیم و تربیت کے ماتحت آ سکتی ہے۔شاید اس لئے بیت المال کے ماتحت رکھی گئی ہے کہ مسجد بھی مال ہے مگر وہ خدا کا مال ہوتا ہے۔تعمیر مساجد کا سوال ایسا اہم ہے کہ شہری جماعتوں کو اپنی مساجد کے نہ ہونے کی وجہ سے اتنی تکلیف ہو رہی ہے جو بیان نہیں کی جاسکتی۔پھر اخلاق پر بھی بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے۔مسجد ایک ایسی چیز ہے کہ سُست کو بھی جگا لیتی ہے۔بشرطیکہ اس میں ایمان ہو اور یہ اثر کسی مکان کا نہیں ہو سکتا جہاں نماز پڑھی جاتی ہو۔آجکل شہروں میں ہماری جماعت کے لوگ مکانوں میں نمازیں پڑھتے ہیں۔بعض دفعہ مکان والے کے ساتھ کسی کی لڑائی ہو جاتی ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ جس کی مرضی ہو ہمارے مکان پر آئے جس کی نہ ہو نہ آئے۔کئی لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو اس تلخ گوئی کو نگل لیتے ہیں مگر کئی اسے برداشت نہیں کر سکتے۔مالک مکان اُس وقت بھی اپنی حکومت جتاتا ہے اور یہ نہیں خیال کرتا کہ میں نے تو اپنے مکان کو خدا کا گھر قرار دیا ہے جب اس میں نماز پڑھنے کا انتظام کیا ہے۔مگر مساجد کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا۔پس مساجد نہ ہونے کی وجہ سے کئی قسم کے نقائص پیدا ہو رہے ہیں۔نمازوں میں سستی کی جاتی ہے، لڑائیاں ہوتی اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔اگر دس جماعتوں میں لڑائی ہوتی ہے تو ان میں سے آٹھ تو ایسی ہوتی ہیں جن میں مسجد کے نہ ہونے کی وجہ سے لڑائی ہوتی ہے۔میرے پاس چونکہ جھگڑے آتے ہیں اس لئے مجھے یہ بات معلوم ہوتی رہتی ہے تو مساجد کا ہونا ضروری ہے۔گاؤں والوں کے لئے تو مساجد کا بنانا آسان ہے کیونکہ وہ اپنی زمین میں چند سو روپے خرچ کر کے نماز پڑھنے کے قابل جگہ بنا سکتے ہیں مگر شہروں میں دقت ہے۔وہاں جماعت کو وجاہت کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے اور وہاں زمین اتنی قیمتی ہوتی ہے کہ مسجد کی لاگت سے زیادہ زمین کی قیمت دینی پڑتی ہے۔