خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 176

خطابات شوری جلد اوّل ۱۷۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء پڑھا جاتا ہے۔اس میں اسلام کے خلاف جو کچھ لکھا جاتا ہے چونکہ مسلمانوں کی طرف سے اُس کا ازالہ نہیں ہوتا اس لئے انگریزی خوان طبقہ اس سے متاثر ہوتا جاتا ہے اور اس کا متأثر ہونا ہمارے لئے مضر ہے کیونکہ وہ لوگ جس قدر اسلام سے دور ہوتے جائیں گے ہمارے لئے اُن کی اصلاح کا کام اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا، مثلاً عیسائیوں کا ایک اخبار ہے یپی فینی“ یہ چند صفحوں کا اخبار ہے جس میں چھوٹے چھوٹے سوال درج ہوتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں میں زہر پھیلایا جاتا ہے۔ہمارے موجودہ اخبار ایسے طرز پر ایڈٹ ہوتے ہیں کہ جن میں جماعت کی ترقی اور تنظیم کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اس لئے ان میں ایسے مضامین ہوتے ہیں جن سے عام لوگ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے اس لئے وہ ان کو نہیں پڑھتے۔اور دوسرے لوگوں کے اخبارات پڑھتے ہیں جن سے ان کو ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے وہ طبقہ کہ جس میں ہم تبلیغ کر سکیں محدود ہوتا جاتا ہے۔ایسے لوگ ایک دن میں تیار نہیں ہو سکتے بلکہ مہینوں کی محنت کا نتیجہ ہوتے ہیں مگر ہمارے پاس اس کے لئے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ہماری جماعت کے لوگ ہر شخص سے مل نہیں سکتے یا ابھی ان میں دوسروں سے ملنے کی اہلیت نہیں پیدا ہوئی اس لئے تجویز ہے کہ ایسا اخبار جاری کیا جائے جو چار صفحہ کا ہو اور پندرہ روزہ ہو۔اس میں ایسے امور پر بحث کی جائے جو لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور اس طرح عیسائیوں اور آریوں کے اثر سے ان کو نکالا جائے اور ان کے اثر سے نکال کر اپنا لٹریچر انہیں دیا جائے۔اسکی زیادہ ضرورت ہندوستان کے لئے ہے یا باہر کے ایسے علاقوں میں جہاں مسلمان پائے جاتے ہیں اور جن پر غیر مذاہب کا اثر ہو رہا ہے۔عیسائی ممالک میں جہاں ابھی اسلام پھیلانے کی ضرورت ہے وہاں کے لئے ریویو انگریزی کافی ہے۔ان ممالک میں یہی بہترین تبلیغ ہے کہ وہ تعلیم پیش کی جائے جس سے اسلام کی تازہ روح کا ثبوت ملے یعنی سلسلہ احمدیہ۔لیکن وہ لوگ جو اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں مگر انہیں اسلام کی خوبیاں معلوم نہیں اُن کے لئے ایسے اخبار کی ضرورت ہے جو غیر مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی برتری ثابت کرے۔اس تجویز پر ان امور کو مدنظر رکھ کر غور کیا جائے کہ اسلام پر غیر مذاہب کی طرف سے اعتراضات ہو رہے ہیں اور ان اعتراضات سے متاثر ہو کر مسلمان کہلانے والے اسلام سے دور ہو رہے ہیں۔ایسے لوگوں