خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 175
خطابات شوری جلد اول ۱۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء عرصہ میں کئی سو کی کتابیں فروخت ہو گئیں ۔ اس کے علاوہ کتابیں خریدنے والوں کے ساتھ تبادلۂ خیالات کا موقع مل گیا اور اس طرح کئی ایسی باتیں معلوم ہو ہو گئیں گئیں جو پہلے معلوم نہ تھیں کہ کس طرح ان لوگوں کے دلوں میں ہمارے سلسلہ کی نسبت بغض پیدا کیا گیا۔ تو لٹریچر کی اشاعت کا ایک نتیجہ یہ یہ بھی بھی نہ نکل سکتا ہے کہ اُمراء میں تبلیغ کا ایک راستہ راستہ کھ کھل سکتا ہے اور ان کے دلوں میں جو بغض ہے وہ دُور ہو سکتا ہے۔ پس یہ غلط خیال ہے کہ اس کام میں کامیابی نہ ہوگی ۔ گو ہمیں اس بارے میں تلخ تجربہ بھی ہوا ہے کہ جن کے متعلق خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اتنے بڑے آدمی مفت کتابیں مانگیں گے انہوں نے مفت مانگیں ۔ مگر ایسوں نے کتابیں خریدیں بھی کہ جن کے متعلق خریدنے کی کوئی امید نہ تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کامیابی ہو سکتی ہے اور جو لوگ کتابیں خریدیں گے وہ پڑھیں گے بھی ۔ اور جب پڑھیں گے تو فائدہ بھی اُٹھائیں گے ۔ میرے نزدیک مفت کتاب دینا پھینک دینا ہے۔ مفت دینے کا ایک مصرف ہے اور وہ یہ ہے کہ دوست اپنے افسروں کو ہدیے کے طور پر کتاب دیں۔ اس کو میں اِس لئے ضائع نہیں کہتا کہ اگر کوئی چیز ہدیہ دی جاتی تو وہ بھی ضائع ہی جانی تھی ۔ مگر کتاب خرید کر دینے پر ایک تو ان کا روپیہ دین کے کام میں صرف ہوا جو دوسری صورت میں کسی بقال کے پاس جاتا۔ پھر مفت دینے کو اس لئے ضائع ہونا کہتے ہیں کہ کوئی سو میں سے ایک ہی پڑھتا ہو گا لیکن تحفہ لینے والوں میں سے ایک ہی پڑھ لے گا تو بھی فائدہ ہوگا ۔ پھر اس کی نسل اس سے فائدہ اٹھائے گی ۔ پھر اس طرح دوست دوست کو کتابیں دیتے یا ایسے افسروں کو جن سے روزانہ ان کی ملاقات ہوتی ہے اور وہ بار بار کہہ کر ان سے پڑھوا لیتے ہیں ۔ تو آپ لوگوں نے اس بات پر غور کرنا ہے کہ کس طرح کتابوں کی اشاعت کا کام کیا جائے ۔ انگریزی اخبار کی ضرورت ایک اور سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کا انگریزی خوان طبقہ جو دین سے بے بہرہ ہے اُس کے لئے ایک انگریزی اخبار کی ضرورت ہے۔ اس امر پر غور کیا جائے کہ اخبار جاری کیا جائے یا نہ؟ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی ہے۔ اس وقت تک عیسائیوں اور آریوں کی طرف سے ایسا لٹریچر بہم پہنچایا جاتا ہے جو ستا ہوتا ہے اور مختصر ہونے کی وجہ سے چند منٹ میں