خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 165

خطابات شوری جلد اوّل ܬܪܙ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء فرمایا:- بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ( منعقده ۴،۳ را پریل ۱۹۲۶ء) پہلا دن ۳ را پریل ۱۹۲۶ء کو قادیان میں مجلس مشاورت کا افتتاح کرتے ہوئے حضور نے پیشتر اس کے کہ جلسہ کی کارروائی شروع ہو جیسا کہ ہمارا طریق ہے پہلے تمام دعا دوست مل کر اس بات کے لئے دعا کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مجلس مشاورت میں صحیح طریق اختیار کرنے کی توفیق بخشے۔ہمارے قلوب پر اپنی رضا نازل کرے اور ہم پر ظاہر کرے اور جو اُس کا منشاء اور ارادہ ہے دین کی اور ہماری بہتری کے لئے اور وہ اس کے فضل سے ہمارے قلوب پر جاری کیا گیا ہواُس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ دعا کرنے کے بعد مجلس کی کارروائی شروع ہوگی۔“ 66 تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے افتتاحی تقریر کرتے افتتاحی تقریر ہوئے فرمایا:- مومنوں کی خصوصیت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے کہ وہ تمام امور باہمی مشورہ سے طے کیا کرتے ہیں۔یہ تعلیم اور یہ ارشاد اُن خصوصیات میں سے ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی ہیں۔یہ بات کہ دنیا پر کوئی زمانہ بھی ایسا آیا ہو گا جب لوگ مشورہ سے کام نہیں لیتے ہونگے یا مشورہ کرنا نا پسند کرتے ہونگے یہ انسانی وہم و گمان میں نہیں آ سکتا۔جب سے انسان پیدا ہو ا ہے لوگ مشورہ لیتے چلے آئے ہیں اور لیتے چلے جائیں گے لیکن اس امر کو دین اور