خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 161
خطابات شوریٰ جلد اوّل 171 مشاورت ۱۹۲۵ء ہے اور اس طرح مالی آمدنی بہت بڑھ سکتی ہے۔اگر اس وقت ریویو انگریزی کے پانچ ہزار خریدار ہو جائیں تو یورپ کے مشن کا خرچ اسی سے نکل سکتا ہے بلکہ موجودہ اخراجات کے لحاظ سے کچھ بچت بھی ہوسکتی ہے۔لٹریچر کی فروخت اسی طرح ایک یہ تجویز ہے کہ سلسلہ کا لٹریچر پوری کوشش اور سعی سے فروخت کیا جائے۔اگر ہماری جماعت کے معزز اصحاب خود جا کر سلسلہ کی کتب لوگوں کو دیں اور خریداری کی تحریک کریں تو بہت سے لوگ ضرور خرید لیں گے۔الفضل کی اشاعت بڑھاؤ اسی طرح احباب اگر الفضل کی خریداری بڑھا ئیں تو ہمارا پر لیس بہت مضبوط ہو سکتا ہے۔الفضل کو میں سلسلہ کے لئے وقف کر چکا ہوں۔اس کی آمد بھی اگر زیادہ ہو تو سلسلہ کے دوسرے کاموں میں صرف ہوسکتی ہے۔علاقہ سندھ میں تبلیغ ایک اور تجویز بھی ہے اور وہ میری ایک رؤیاء کے ماتحت ہے۔اس رویاء کی میں تفصیل تو نہیں بتا سکتا۔صرف اتنا کہتا ہوں کہ میں بہتا جا رہا ہوں اس حالت میں میں زمین پر پاؤں لگنے کے لئے دُعا کرتا ہوں مگر نہیں لگتے۔پھر میں نے یہ دعا کی کہ سندھ میں میرے پاؤں لگیں جب میں وہاں پہنچا تو وہاں میرے پاؤں لگ گئے۔پچھلے دنوں جب ہندوستان میں بہت سی مشکلات تبلیغ کے رستہ میں پیدا ہو گئیں تو میں نے سندھ میں تبلیغ کرنے پر زور دیا اور میں نے دیکھا خدا کے فضل سے چند ماہ میں چند گاؤں احمدی ہو گئے۔میرا خیال ہے اگر پورے طور پر زور دیا جائے تو بہت تھوڑے عرصہ میں وہاں کئی لاکھ احمدی ہو سکتے ہیں۔مجھے معلوم ہوا ہے اس علاقہ میں ساری کی ساری تجارت ہندوؤں کے قبضہ میں ہے۔اگر ہماری جماعت کے تاجر لوگ اس علاقہ میں جا کر دو کا نہیں کھولیں اور ساتھ ہی تبلیغ کا فرض ادا کریں تو بہت کامیابی ہوسکتی ہے۔میں نے ایک دوست کو وہاں جانے کی تحریک کی بھی ہے اور ارادہ ہے کہ یہ تحریک جاری رہے۔اسی طرح کراچی اور کلکتہ میں تبلیغی مشن قائم کئے جائیں تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔کراچی کے دوست اس کے لئے آمادہ ہیں اور کلکتہ کے دوست بھی خواہش مند ہیں۔ان مقامات میں اگر چہ