خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 159
خطابات شوری جلد اوّل ۱۵۹ مشاورت ۱۹۲۵ء میں جا کر اس کی طرف خاص توجہ کریں۔ہماری اُس وقت تک نہ مالی ترقی ہو سکتی ہے اور نہ تمدنی جب تک دنیا میں ہماری کافی تعداد نہ ہو جائے۔تمدنی لحاظ سے اس طرح کہ جب تک جماعتیں کی جماعتیں احمدیت میں داخل نہ ہوں اور ان میں سے کسی شخص کا علیحدہ ہونا اس کے لئے موت کے برابر نہ ہو اس وقت تک ارتداد کا خطرہ لگا ہی رہے گا۔دیکھو اب ایک شخص کا چو ہڑوں سے کٹنا مشکل ہے کیونکہ اُسے اپنے رنگ کی سوسائٹی اور جگہ نہیں ملتی مگر احمدیوں میں سے نکل کر کسی کا غیر احمدی ہو جانا بہت آسان ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری تعداد کم ہے۔اگر ہر جگہ ہماری تعداد بھی زیادہ ہو تو کوئی احمدی بد عقیدہ یا کسی بات سے ناراض ہو کر جماعت سے الگ نہ ہو۔ایک چو ہڑا اگر مسلمان ہو کر سوسائٹی سے علیحدہ ہو جانے کی وجہ سے پھر اُن میں جاملتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک احمدی ایسا نہ کرے۔اس وقت جو مشکل ہے وہ سوسائٹی کی کمی کی وجہ سے قلتِ تعداد کے باعث ہے۔شہری جماعتوں کا فرض پس جماعت کی ترقی کی طرف خصوصیت سے توجہ کرنی چاہئے اور خاص طور پر شہروں میں رہنے والے احمدیوں کو زیادہ توجہ کرنی چاہئے کیونکہ دیہات کی نسبت شہروں کی تعلیمی حالت بہت بڑھی ہوئی ہے اور تعلیم یافتہ لوگ سلسلہ کے لئے زیادہ مفید اور کار آمد ہو سکتے ہیں۔دیکھو شہری جماعتوں کا چندہ دیہاتی جماعتوں کی نسبت بہت بڑھا ہوا ہوتا ہے اور دیہاتی احمدی کبھی اس شوق سے چندوں میں حصہ نہیں لیتے جس سے شہری لیتے ہیں۔ان کا یہ شوق علمی قابلیت اور استعداد کی وجہ سے ہوتا ہے۔بے شک گاؤں کے لوگ جلدی احمدیت میں داخل ہو جاتے ہیں مگر دس گاؤں کے آدمی ایک شہری کے برابر ہو سکتے ہیں۔کیا بلحاظ مال اور کیا بلحاظ روحانیت۔پس شہری جماعتوں کے لئے نہایت ضروری ہے کہ تبلیغ کی طرف خاص توجہ کریں کیونکہ وہ ریڑھ کی ہڈی ہیں۔علم اور چندہ کے قائم رکھنے کے لئے ایک لمبے عرصہ کی تعلیم و تربیت کے بعد گاؤں والی جماعتیں بھی اس قابل ہو جائیں گی مگر موجودہ لحاظ سے ضروری ہے کہ شہری لوگوں کو سلسلہ میں بکثرت داخل کیا جائے۔ایک بنگالی نوجوان کا اخلاص چند ہی دن ہوئے بنگال سے ایک نو جوان کا خط آیا۔وہ جب طالب علم تھا اُس وقت بھی بہت جوشیلا تھا