خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 156
خطابات شوری جلد اوّل حضور نے فرمایا: - ۱۵۶ مشاورت ۱۹۲۵ء چونکہ دوسرے سوالات ان کی معرفت آئے ہیں اس لئے اس کمیٹی میں ان کا ہونا ضروری ہے۔“ منشی فرزند علی صاحب نے با چشم تر اور بھرائی ہوئی آواز میں عرض کیا۔میں نے حج صاحب کے سوال اُن کے اصرار پر بھیجے تھے۔ملک عزیز احمد صاحب کے میں نے نہیں بھیجے تھے مجھے ذاتی طور پر نہ کوئی پہلے اعتراض تھا اور نہ اب ہے۔مجھے حضور اس کمیٹی سے نکال دیں۔( خان صاحب رقت کی وجہ سے اس سے زیادہ نہ کہہ سکے۔ان کی آواز بند ہوگئی اور وہ بیٹھ گئے۔) حضور نے فرمایا : - اس لحاظ سے آپ کو شامل نہیں کیا جاتا ہے کہ آپ نے اعتراضات کئے ہیں بلکہ سیاسی لحاظ سے آپ کا شامل ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ سوال راولپنڈی سے آئے ہیں اور آپ وہاں کی جماعت کے امیر ہیں۔سوالات کرنے والوں سے کوئی ناراض نہیں بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ میں ان دوستوں سے ناراض ہوں جنہوں نے سوالات کئے ہیں مگر میری یہ عادت نہیں ہے۔بے شک میں نے بعض کے اس فعل کو نا پسند کیا ہے اور بعض کے متعلق اس لئے شکایت ہے کہ وہ ذمہ وار تھے مگر انہوں نے ایسے سوالات کو روکا نہیں ورنہ مجھے کسی سے ناراضگی نہیں۔میں اس وقت تک ان کے لئے تین دفعہ دعا کر چکا ہوں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ میں ان سے ناراض نہیں ہوں۔اب بھی میں ان کے لئے دعا کروں گا۔مجھے افسوس یہ ہے کہ منافقوں نے انہیں دھوکا دیا اور وہ ان کے دھوکا میں آگئے ورنہ وہ مخلص ہیں۔میں ان سے ناراض نہیں ہوں اور منافقوں سے بھی ناراض نہیں ہوں کیونکہ ہمارا کام اصلاح کرنا ہے۔اگر ناراض ہوں تو پھر 66 اصلاح کس طرح کریں۔“