خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 154
خطابات شوری جلد اوّل ۱۵۴ مشاورت ۱۹۲۵ء ایک سوال اس کی لڑکی کے متعلق کیا گیا ہے کہ کیا اُس کو بھی ہسپتال سے تنخواہ دی جاتی ہے مگر اس کی لڑکی کو کوئی تنخواہ نہیں دی جاتی۔وہ لڑکی یہاں آنے سے قبل مری میں پڑھتی تھی اُس کی تعلیم کے لئے میں نے زکوۃ کی مد سے بیس روپے وظیفہ مقرر کیا تھا اور زکوۃ کی مددہ ہے کہ اگر اس مد کا ہمیں چھپیس ہزار روپیہ بھی میرے پاس ہو اور میں ایک شخص کو بلا کر کہوں کہ یہ سارے کا سارا لے جاؤ تو کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ روک سکے کیونکہ یہ مدمیری ذات سے تعلق رکھتی ہے اور میری اور صرف میری ہی ذات اس کے خرچ کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔وہ روپیہ اس شرط کے ساتھ کہ میں اُسے اپنی ذات پر خرچ نہ کروں، میرا ہی ہے اور مجھے اختیار ہے کہ میں اس میں سے اُن لوگوں کو جنہیں دینے کی قرآن کریم نے اجازت دی ہے جتنا چاہوں دوں، کسی کو اس کے متعلق کچھ کہنے کا حق نہیں ہے۔میں نے اس روپیہ میں سے بیس روپے اس کے لئے مقرر کئے تا کہ وہ تعلیم جاری رکھ سکے۔ڈاکٹر شاہ نواز صاحب اُن دنوں نور ہسپتال میں کام کرتے تھے انہوں نے نرس کو سمجھایا کہ وہ مری میں عیسائیوں کے سکول میں اپنی لڑکی کو پڑھنے کے لئے نہ بھیجے تاکہ لڑکی کے متعلق مشکلات نہ پیدا ہوں۔اس پر اُس نے مجھے چٹھی لکھی کہ میں اب وہاں نہیں بھیجنا چاہتی وہ یہاں ہی پڑھے۔چونکہ وہ وظیفہ جاری کیا جا چکا تھا اور وہ لڑکی یہاں پڑھ رہی ہے سات سپارے پڑھ چکی ہے اس لئے میں نے اسے جاری رکھا۔اگر یہ جائز نہیں تو میں اس کے متعلق خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوں۔کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔کہا گیا ہے کیا نرس کو زیور بنوا کر دیئے گئے ہیں؟ یہ بالکل جھوٹ اور بہتان ہے۔اب تحقیقات ہو گی اگر ایک پیسہ کا زیور بھی ثابت ہو گیا تو ہم بنوا کر دینے والے کو پکڑیں گے اور اگر نہ ثابت ہوا تو اعتراض کرنے والے جواب دہ ہوں گے۔گو میں سمجھتا ہوں اگر تألیف قلوب کے طور پر ایک مرد کو کپڑے بنوا کر دیئے جا سکتے ہیں تو کسی عورت کو زیور بھی دیئے جا سکتے ہیں مگر آج تک کسی کو دیئے نہیں گئے۔آئندہ اس کے متعلق بھی خیال رکھیں گے تا کہ لوگوں کو معلوم ہو سکے۔اس کے متعلق بھی ہم کو اختیار ہے۔اسی سلسلہ سوالات میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا ڈاکٹر عبداللہ صاحب کی بیوی اس انگلش نرس سے زیادہ مڈوائفری کا کام جانتی ہے اور اسے انگلش نرس سے کم تنخواہ پر ہسپتال