خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 151
خطابات شوری جلد اوّل ۱۵۱ مشاورت ۱۹۲۵ء سوال پیدا کرنا فتنے کی کوشش نہیں ؟ مگر میں نے بتایا ہے کہ یہ بالکل غلط اور جھوٹا سوال ہے۔کوئی قادیان کا شخص اس فنڈ سے کچھ نہیں لے رہا۔سب کے سب باہر کے ہیں۔کوئی سیالکوٹ کا ہے، کوئی لاہور کا ہے، کوئی بنگال کا ہے، کوئی سندھ کا ہے، کوئی افغانستان کا ہے، کوئی سماٹرا کا ہے، قادیان والوں کو کچھ نہیں دیا جاتا۔حالانکہ اِن کا حق ہے کہ ہم سے اس کا مطالبہ کریں۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی ملازمت ایک اعتراض ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب کی ملازمت کے متعلق کیا گیا ہے۔ڈاکٹر صاحب ۱۴ سال سے انجمن کا کام کر رہے ہیں۔بے شک یہ بات صحیح ہے کہ شفاخانہ کی طرف ان کی خدمات کو منتقل ہوئے سال سوا سال کا عرصہ ہوا ہے۔مگر ایک محکمہ سے دوسرے محکمہ میں جانے سے ملازمت کا سلسلہ ٹوٹ نہیں جاتا۔ہاں ان کے متعلق ایک بات ہے جس کے متعلق مجھے بھی اختلاف تھا۔جب یہاں کی رہائش کی وجہ سے ان کے اخراجات نہ چلے اور وہ مقروض ہو گئے تو انہوں نے انجمن کے کام سے استعفاء دے دیا تا کہ باہر جا کر کام کریں۔اُس وقت میں نے انہیں سمجھایا کہ ایک کام جس کو چھوڑے دس بارہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور پھر جب کہ پرائیویٹ پریکٹس شروع کرنی ہے تو ناممکن ہے کہ کامیابی ہو سکے مگر اُس وقت ان کے بھی قرض کی وجہ سے حواس درست نہ تھے اُنہوں نے میرے مشورہ کو نہ مانا اور لاہور جا کر کام شروع کر دیا۔وہاں انہیں ماریشس کی احمد یہ جماعت نے لکھا کہ یہاں ڈاکٹر کو معقول آمدنی ہو سکتی ہے یعنی ہزار پندرہ سو روپیہ ماہوار کے قریب۔چونکہ مسلمان ڈاکٹر کوئی نہیں اس لئے اگر آپ آجائیں تو کامیابی کی امید ہے۔ڈاکٹر صاحب وہاں جانے کے لئے تیار ہو گئے۔میرے نزدیک وہاں ان کی پریکٹس چل سکتی تھی، اپنی جماعت مدد کے لئے تیار تھی اور دوسرے لوگوں کو بھی مسلمان ڈاکٹر کی ضرورت تھی۔جب وہ وہاں جانے کے لئے تیار ہو گئے تو یہاں ملنے کے لئے آئے۔اُس وقت بعض دوستوں نے مجھے لکھا کہ ڈاکٹر صاحب کو جانے نہ دینا چاہئے۔یہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے ہیں لیکن میں ایسی باتوں میں خاص طور پر احتیاط کیا کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ منافق موجود ہیں۔وہ یہ نہیں دیکھیں گے