خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 146

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۴۶ مشاورت ۱۹۲۵ء جنہوں نے اعتراض کئے ہیں اُن کی سب کمیٹی بناؤں گا۔اور دفاتر کا سارا ریکارڈ اُن کو دوں گا تا کہ وہ تحقیقات کریں۔پھر اگر ان کے اعتراضات صحیح ثابت نہ ہوئے تو جنہوں نے سوال کئے ہیں وہ بھی قصور وار ہوں گے۔مگر جس کسی نے ان کو بتائے اُن کو جماعت سے خارج کر دوں گا اور اگر سچے ثابت ہوئے تو جس ناظر کے متعلق ثابت ہوں گے وہ یہاں نہیں رہ سکے گا۔منشی فرزند علی صاحب شیخ محمد حسین صاحب سب حج اور ملک عزیز احمد صاحب کی میں کمیٹی بناتا ہوں۔اگر ان کے بیان کردہ الزام غلط ثابت ہوئے تو وہ مجرم ہوں گے اور اُنہیں جواب دہی کرنی ہوگی اور جنہوں نے ان کے دل میں یہ سوال ڈالے انہیں جماعت سے خارج کر دوں گا۔گویا اس معاملہ میں خود مدعی حج ہوگا وہ اپنے دعوی کا خود فیصلہ کرے گا۔اس سے بڑھ کر اور کیا کیا جاسکتا ہے۔خرید کتب کے متعلق سوال اب میں سوالات کی طرف آتا ہوں۔ایک سوال یہ کیا گیا ہے کہ ایڈیٹر نور اور ایڈیٹر فاروق سے جو کتابیں خریدی گئی ہیں وہ کیوں خریدی گئی ہیں اور کتنی کتنی قیمت کی خریدی گئی ہیں؟ مجھے تعجب ہے کہ یہ سوال کس بناء پر کیا گیا ہے۔پوچھا گیا ہے ریویو کے دفتر سے کیوں کتابیں خریدی گئیں اور نور سے کیوں نہ خریدی گئیں؟ میں پوچھتا ہوں کیا ریویو میرا ہے؟ اگر میرا ذاتی نہیں بلکہ جماعت کا ہی ہے تو پھر دو بک ڈپوز کو ملانے کے لئے اگر ایک کی کتابیں خریدی گئیں تو کیا حرج ہوا۔اور کیا اس وجہ سے ضروری ہو گیا کہ ایک دفتر سے خریدی ہیں تو دوسرے سے بھی ضرور خریدیں۔دیکھو اگر یہ میز جو صدر انجمن کی ہے، پچاس ہزار روپیہ پر بھی نظارت خرید لے تو اسے بد دیانتی نہیں کہا جائے گا۔یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس قدر رقم یوں ہی دے دی جاتی میز کا نام رکھ کر دینے کی کیا ضرورت تھی۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بددیانتی ہے۔اسی سلسلہ میں دوسرا سوال اس مطلب کا کیا گیا ہے کہ فاروق سے کتنے کی کتابیں خریدی گئیں اور نور سے کیوں نہ خریدی گئیں؟ اشتہارات مسیح موعود کی اشاعت ایڈیٹر فاروق سے قصور ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات جو ملتے نہ تھے اس نے اکٹھے کئے۔گویا اس نے یہ غلطی کی کہ کئی سال کی محنت سے ان اشتہارات کو جمع کیا۔