خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 147
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۴۷ مشاورت ۱۹۲۵ء دوسری غلطی اس نے یہ کی کہ اپنا سرمایہ لگا کر ان اشتہارات کو کتاب کی شکل میں شائع کیا۔آگے نظارت نے یہ غلطی کی کہ اُس نے اِن کتابوں کو خرید لیا ( اس جرم کی وجہ سے سب ناظر خائن ہو گئے ) میں پوچھتا ہوں کہ یہ فی الواقعہ ایڈیٹر فاروق اور نظارت کا قصور تھا ؟ بجائے اس کے کہ فاروق والے کو انعام دیا جاتا، جماعت اُس کا شکر یہ ادا کرتی کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کو جو موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی ہیں، محفوظ کرنے کی کوشش کی اور اکیلے نے وہ کام کیا جو ساری جماعت نے نہ کیا۔یا اس کے مقابلہ میں یہ کہ اسے پیسا جاتا اور نظارت جسے کچھ اور کرنا چاہئے تھا اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے کتابیں کیوں خرید لیں۔اور اگر خرید لیں تو دوسروں کی کتابیں بھی خریدنی چاہئیں تھیں۔میں کہتا ہوں تم احمدی کہلاتے ہوئے یہ سوال کس طرح کر سکتے ہو۔مگر افسوس ہے احمدی کہلاتے اور کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں خریدی گئیں تو نور کی کیوں نہ خریدیں۔میں کہتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ کا مقابلہ کسی اور کی تحریروں سے کرتا ہے اُس کے لئے حرام ہے کہ کسی قسم کا چندہ دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جوتی کے ٹکڑے کی قدر مجھے تو اگر حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جوتی کا ٹکڑا بھی ملے گا تو میں اُسے خرید لوں گا۔اور میں اُنہی کا چندہ لوں گا جو میری طرح اسے خریدنے کے خواہش مند ہوں گے دوسروں سے چندہ لینے کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔مجھے انسانوں کی ضرورت اور احتیاج اُسی وقت تک ہے جب تک میرے خدا نے انہیں پیدا کیا ہے۔اگر یہ نہ رہیں گے تو خدا تعالیٰ مجھے زمین سے رزق دے گا اور آسمان سے میرے لئے نازل کرے گا۔عیسائیوں کو دیکھو دیکھو عیسائی جن کے عقائد کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے انہیں پیٹر (St۔Peter) کا ایک مشکوک خط ملتا ہے مگر وہ اُسے پچاس ہزار روپیہ پر خرید لیتے ہیں۔اسی طرح پطرس کا خط جو حضرت مسیح کا حواری تھا ۷۵ ہزار پر خریدتے ہیں۔مگر تم احمدی کہلاتے ہوئے اس بات پر اعتراض کرتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے اشتہار ایک ہزار کے قریب