خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 142

خطابات شوری جلد اوّل ۱۴۲ مشاورت ۱۹۲۵ء پس مومن کا پہلا کام یہ ہے کہ جس کے متعلق کوئی بات سنے اُسے کہے۔پھر جو ذمہ وار آدمی ہیں انہیں تحقیقات کے لئے کہے۔دیکھو شریعت نے یہ طریق رکھا ہے کہ جو شخص کوئی الزام لگائے اُس کے متعلق بدظنی ہونی چاہئے اور جس پر الزام لگے اس کے لئے حُسنِ ظنی یعنی شریعت کہتی ہے جو کسی کی بُرائی سُنائے اُسے کہو یہ غلط ہے، ہم نہیں اسے مان سکتے جب تک ثابت نہ ہو جائے۔مجرم کی تائید نہیں کرنی چاہئے میں نے گزشتہ سال ہی مشاورت کے موقع پر کہا تھا کہ بہت سے فساد اس بات سے بڑھتے ہیں کہ مجرم کی تائید کی جاتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔معترضوں کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر انہیں کچھ مل جائے تو راضی رہیں گے اور اگر نہ ملے تو اعتراض کریں گے۔ย حضرت عثمان پر اعتراض کر نیوالے دیکھو حضرت عثمان پر حملہ کرنے والے آپ پر یہی الزام لگاتے تھے کہ آپ مال کھا گئے۔مگر انہیں شہید کرنے کے بعد سب سے پہلا کام جو وہ کرتے ہیں اور جس کے متعلق ساری تاریخیں متفق ہیں وہ یہ ہے کہ وہ خزانہ کی طرف گئے ، محافظوں کو مارا اور سارا مال لوٹ لیا۔دوسرا الزام وہ لوگ حضرت عثمان پر یہ لگاتے تھے کہ ان کے مقرر کردہ والیوں کے چلن ٹھیک نہیں مگر خود اُنھوں نے کیا کیا۔حضرت عثمان کو شہید کیا اور جب وہ خون میں تڑپ رہے تھے تو قاتل کہہ رہے تھے دیکھو تو ان کی بیوی کے ٹرین کتنے موٹے ہیں ! پھر اس سے بھی بدتر کام اُنہوں نے کیا۔مجھے خدا تعالیٰ نے بہت بڑا مرتبہ دیا ہے اور میں اس پر فخر کرتا ہوں لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ کاش! میں اُس وقت ہوتا اور اب نہ ہوتا تو میں ان لوگوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا جنھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بے پرد کیا۔اور دیکھ کر کہا تھا یہ تو نوجوان ہے یا یہ ان لوگوں کی حالت تھی جو کہتے تھے کہ حضرت عثمان بدچلن ہیں اور لوگوں کے مال کھا جاتے ہیں۔اعتراض کر نیوالوں کی حالت دیکھو ہر زمانہ میں اعتراض کرنے والوں کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے۔تم لوگوں کو چاہئے کہ اعتراض کرنے والے کے تقویٰ اور طہارت کو دیکھو اور پھر اس کی بات کا اندازہ لگاؤ۔جن