خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 136
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۳۶ مشاورت ۱۹۲۵ء نہیں چل سکتا۔کیا ہائی کورٹ اور پریوی کونسل غلطی نہیں کر سکتی؟ کر سکتی ہے اور کرتی ہے مگر کیا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرے اور لوگ اُسے نہ مانیں؟ بات یہ ہے کہ انسان کا ہر کام نامکمل ہے مگر جب تک بعض نا مکمل باتیں تسلیم نہ کی جائیں دوسری مکمل نہیں ہوسکتیں۔اور جب تک اس نا مکمل بات کو تسلیم نہ کیا جائے کہ حاکم غلطی کر سکتے ہیں اُس وقت تک یہ بات مکمل نہیں ہوسکتی اور کبھی فساد دُور نہیں ہو سکتا۔بے شک خلفاء غلطی کر سکتے ہیں مگر اس میں کوئی حبہ نہیں کہ اگر ان کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا جائے تو کوئی جماعت جماعت نہیں رہ سکتی۔پس خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے اور تم بھی غلطی کر سکتے ہو مگر فرق یہی ہے کہ خلیفہ کی خطرناک غلطی کی خدا تعالیٰ اصلاح کر دے گا مگر آپ لوگوں سے خدا کا یہ وعدہ نہیں ہے۔ہر جماعت میں منافق ہوتے رہے اس کے بعد میں ایک اور نصیحت کرتا ہوں۔کوئی جماعت کسی بڑے آدمی کی خواہ وہ خلیفہ ہو یا نبی حتی کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسی نہیں گزری جس میں منافق نہ ہوں۔مسلمانوں نے یہ بات بھلائی اور آج وہ بھی اور ہم بھی اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔کیا اس قسم کی حدیثیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے زینب کو نگا دیکھا اور اس پر عاشق ہو گئے ،مخلص صحابہ نے بیان کی ہیں؟ اگر نہیں تو کہاں سے آئیں؟ مسلمانوں نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ جس نے کہا میں نے محمد صلے اللہ علیہ وسلم کو مانا ہے، اُس نے جو بات کہی وہ درست ہے حالانکہ منافقوں کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے اور ان کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کا بار بار ذکر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں منافق جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں بیان کی ہوئی باقی رہ گئیں تو کیا منافق گونگے تھے کہ ان کے طعنے جو وہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے باقی نہ رہے ؟ باقی تو رہے مگر مسلمانوں نے غلطی سے ان کو صحیح مان لیا۔صحیح حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ تک منافق رہے۔پھر کیا یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپکی آنکھوں کے سامنے جو لوگ آپ کے کیریکٹر پر طعنہ زنی کرتے تھے، وہ بعد میں ایسے پارسا بن گئے کہ رہے تو وہ منافق ہی مگر