خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 132

خطابات شوری جلد اوّل ۱۳۲ غرض آپ کے سوالات میں نہیں ہونی چاہئے۔مشاورت ۱۹۲۵ء ناظروں کا حق سوال کرنے والوں کا فرض ہے کہ ان ناظروں کے پاس جائیں اور انہیں بتائیں کہ یہ نقائص ہیں ان کی اصلاح کی جائے۔اس پر اگر ناظر اصلاح نہ کریں تو پھر اس کو اطلاع دیں جو اصلاح کرا سکتا ہے لیکن جو اس طرح تو کرے نہیں اور اعتراضات کو پبلک میں لائے وہ مجرم ہے۔دیکھو اگر ہر شخص کا یہ حق ہے کہ اُس کی غلطی سے اُسے آگاہ کیا جائے تو میں نہیں سمجھتا وہ لوگ جو سلسلہ کے کام پر مقرر ہیں اُن سے کیوں یہ حق چھین لیا جا سکتا ہے۔کیا اس لئے کہ وہ سلسلہ کے کام پر لگے ہوئے ہیں؟ اگر ناظر غلطیاں کریں اور کرتے ہیں اور وہ خود بھی یہ نہیں سمجھتے کہ غلطی نہیں کر سکتے اور میں کسی سے یہ درخواست بھی نہیں کرتا کہ وہ سمجھے ناظر غلطیاں نہیں کرتے۔پس اگر ناظر غلطیاں کرتے ہیں اور کرتے ہیں تو جسے کوئی غلطی معلوم ہو وہ پہلے ان کے پاس جائے اور انہیں اصلاح کے لئے کہے۔اگر وہ اصلاح نہ کریں تو میرے پاس آئے نہ کہ لوگوں میں تشہیر کرتا پھرے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق فرماتے ہیں اگر میں اپنے کسی معتقد کو شراب میں بدمست دیکھوں تو اُسے اُٹھا کر گھر لے آؤں اور پیشتر اس کے کہ وہ ہوش میں آئے اُس کے پاس سے چلا جاؤں تا کہ وہ مجھے دیکھ کر شرمندہ نہ ہو۔کہ ہمیں بھی ایسے ہی اخلاق پیدا کرنے چاہئیں۔یا د رکھو حضرت مسیح علیہ السلام کی شریعت منسوخ ہو گئی ہے مگر ان کی یہ نصیحت منسوخ نہیں ہوئی کہ اے بھائی! دوسرے کی آنکھ کا تنکہ دیکھنے سے قبل اپنی آنکھ کا شہتر دیکھ۔۵ سوالات کی غرض اصلاح ہونی چاہئے ہمارے سوالات کی اصل غرض اصلاح ہے نہ کہ پارٹیاں بنانا۔مگر اس قسم کے سوالات کے جاری رہنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک پارٹی اُن لوگوں کی بنے گی جو حکومت کی پارٹی کہلائے گی اور ایک مخالف پارٹی ہوگی یہ پہلا قدم ہوگا۔اور دوسرا قدم یہ ہوگا کہ خلیفہ بہر حال۔اِن دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہو گا۔یا کبھی کسی کے ساتھ ہو گا اور کبھی کسی کے ساتھ۔