خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 126
خطابات شوری جلد اوّل ۱۲۶ مشاورت ۱۹۲۵ء اُن کے نہ آنے کی ایک وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ ان کے لڑکے کی نازک حالت ہے مگر انہیں چاہئے تھا کہ اطلاع دے دیتے۔میرے نزدیک اس صیغہ کی رپورٹ اصلاح طلب تھی۔انہیں چاہئے تھا کہ وہ کام پیش کرتے جو ہندوستان میں ہورہے ہیں اور جو ہندوستان سے باہر ہورہے ہیں۔اس صیغہ سے تعلق رکھنے والے جو تازہ ترین کام باہر کی جماعتیں کر رہی ہیں اُن کو ایسے رنگ میں پیش کرنا چاہئے تھا جو حوصلہ بڑھانے والے ہوتے۔ماریشس کے احمدیوں کے کام مثلاً ماریشس میں ایک سو کے قریب احمدی چندہ دینے والے ہیں۔اُن میں سے اکثر حصہ غرباء کا ہے مگر پچھلے چند سالوں میں اُنہوں نے ۳۰۔۳۵ ہزار روپیہ سلسلہ کے کاموں میں صرف کیا ہے۔غیر احمدیوں سے مسجد کا مقدمہ تھا اُس پر اُن کا بہت سا روپیہ صرف ہوا ہے۔پھر اُنہوں نے ایک عالیشان مسجد تیار کی ہے۔دو مبلغوں کا خرچ ادا کر رہے ہیں۔ان سب اخراجات کا اندازہ چالیس ہزار کے قریب ہے۔مسجد انہوں نے گزشتہ سال ہی میں تعمیر کرائی ہے اور اس قابل ہے کہ اس کا ذکر کیا جاتا۔افریقہ میں تبلیغ دوسری بات جس کا ذکر کرنے کی ضرورت تھی اور جس پر اس سے بھی زیادہ رقم صرف ہوئی ہے اور جس کے نظارے آپ لوگوں کو آج رات ہی ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیو نے دکھائے ہیں، وہ افریقہ میں تبلیغ کا کام ہے۔وہاں کے لوگوں نے ۶۰-۷۰ ہزار روپیہ اس وقت تک خرچ کیا ہے۔ایک مدرسہ بنایا ہے جس میں ایک ہزار کے قریب لڑکے پڑھتے ہیں۔گولڈ کوسٹ کے احمدیوں نے آٹھ ہزار روپیہ مسجد کے لئے اور چھ ہزار مدرسہ کے لئے جمع کیا ہے۔وہ پہلے چھ ہزار موٹر کے لئے دے چکے ہیں جس پر تبلیغی دورے کئے جاتے ہیں۔اور یہ وہ لوگ ہیں دینے والے جن کی حالت آپ لوگوں نے رات کو دیکھی ہے کہ عام طور پر ان کے جسم پر سوائے لنگوٹی کے کچھ نہیں ہوتا اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنھوں نے عمر بھر کبھی روٹی نہ کھائی ہوگی۔درختوں کے بیچ اور پھل کوٹ کر پھانک لیتے ہیں۔ایسے لوگوں نے دین کے لئے اس قدر روپیہ جمع کیا ہے کہ ہندوستان کے چندے ان کے سامنے حقیر ہو جاتے ہیں۔