خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 122
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۲۲ مشاورت ۱۹۲۵ء خوف ورجا کے بین ئین میں آپ لوگوں کو ان دونوں باتوں کے ئین ئین چلنے کا مشورہ دوں گا۔ایک طرف تو آپ یہ سمجھیں کہ ہمارے لئے بہت بڑی مشکلات ہیں اور اُن کا حل سوچیں اور دوسری طرف مایوسی کو اپنے پاس نہ پھٹکنے دیں کیونکہ جو مایوس ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی رحمت کو کھو دیتا ہے۔سوالات کرنے والے میں اپنی اصل تقریر کو دوسرے وقت پر اُٹھا رکھنا چاہتا ہوں۔اس میں ایک حکمت ہے۔اس وقت جو سوالات آئے ہیں ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔البتہ میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ افسوس ہے سوال کرنے والوں نے مجلس شوریٰ کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔اس کے متعلق بھی بعد میں بیان کروں گا اور یہ بھی ایک حکمت ہے بعد میں تقریر کرنے کی۔مجلس شوری اور کارکن جماعت آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ مجلس شورٹی اور ہے اور کارکن جماعت اور ہے۔مجلس شوریٰ میں اصولی امور پیش ہوتے ہیں، انہیں کے متعلق سوال کرنے کا حق ہو سکتا ہے مگر اب کے ایسے سوالات کئے گئے ہیں جن کا مجلس شوری سے تعلق نہیں اور جو تفرقہ کا باعث ہو سکتے ہیں۔کیسے سوالات کئے جائیں میں نے پچھلے سال بھی بیان کیا تھا مگر افسوس ہے کہ اس سال اُس سے بھی بڑھ کر سوالات آئے ہیں۔ان سوالات کے متعلق میں اپنی رائے بعد میں بیان کرونگا۔اس وقت یہ قانون بتانا چاہتا ہوں کہ جو سوالات بھیجے جائیں وہ مجلس شوری کے متعلق ہوں نہ کہ کارکن کمیٹی کے متعلق۔ناظروں کی نگرانی میں نے بتایا تھا کہ ناظروں کی نگرانی ضروری ہے اور میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ مجلس شوری کے ممبروں میں سے ایک ایسی کمیٹی بنائی جائیگی جو خلیفہ کے پاس رپورٹ کیا کرے گی کہ ناظروں نے کیا کام کیا۔کام کی پڑتال کی یہ بہت بہتر صورت تھی کہ آزاد کمیٹی ہو جو تحقیقات کرے اور نقائص بیان کرے۔پھر خلیفہ جن نقائص سے متفق ہو اُن کی اصلاح کرائے۔اس مجلس شوریٰ میں اس قسم کے سوال ہونے چاہئیں کہ 66 پچھلے سال جو امور پاس ہوئے تھے، ان کے متعلق ناظروں نے کیا کارروائی کی۔“