خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 114
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء ہم جلسے میں وہ باتیں بیان نہیں کر سکتے جو ہماری مشکلات سے تعلق رکھتی ہیں اور وہی پہلو بیان کرتے ہیں جسے دشمن بھی دیکھ سکتا ہے اور یہاں وہ پہلو بھی بیان ہوتے ہیں جنہیں عقلمند سمجھ سکتے ہیں۔پس چاہئے کہ جس طرح دوست جلسہ کے لئے تحریک کرتے ہیں اُسی طرح مجلس شوریٰ کے لئے بھی تحریک کریں تاکہ ہر جماعت کا نمائندہ آئے۔دیکھو دنیا کہتی ہے کوئی ہمارے مشورہ میں نہ آئے جو کچھ کریں ہم ہی کریں لیکن ہم کہتے ہیں جتنے زیادہ دوست آئیں اُتنا ہی ہم خوش ہیں تا کہ آپس میں میل جول، معرفت اور محبت بڑھے۔اس کے بعد میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ یہاں مل کر اُنہوں نے جو تجویزیں کی ہیں اگر گھر جا کر ان کی طرف توجہ نہ کی تو ضائع ہو جائیں گی۔پس ایک طرف تو میں ناظروں سے کہتا ہوں پچھلے سال جو تجاویز ہوئی تھیں اُن کے متعلق اُنہوں نے کچھ نہیں کیا ادھر دوسروں نے بھی یہی کہا کہ کچھ نہیں کیا اس سے معلوم ہو ا گویا وہ شغل کے طور پر جمع ہوئے تھے۔مگر اتنا نہ ہمارے پاس وقت ہے نہ روپیہ کہ شغل کے طور پر جمع ہوں۔دیکھو ایک ہی جماعت اس وقت دنیا کی رہنمائی پر مقرر ہے اور وہ جماعت احمدیہ ہے۔یہ کوئی معمولی فرض نہیں اور یہ ادا نہیں ہوسکتا جب تک سارے مل کر اپنے اوقات اس پر نہ لگائیں۔پس جو دوست باہر سے آئے ہیں انہیں چاہئے کہ جو باتیں یہاں تجویز ہوئی ہیں انہیں یا درکھیں اور ان پر عمل کریں اور جو یاد نہ رہیں وہ رپورٹ چھپتے ہی پڑھ لیں اور عمل کریں تا جب پوچھا جائے تو یہ نہ کہیں کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔اسی طرح ناظروں سے کہتا ہوں کہ اپنے کاموں کی طرف توجہ کریں۔جو کسی کام پر مقرر کئے جاتے ہیں وہ خدمت کرنے کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں، عہدوں کے لئے نہیں۔یہ بات میں آگے بھی کہتا رہا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں۔عُہدے کام کرنے کے لئے ہیں نہ حکومت کے لئے۔دیکھو حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں: مینہ از بهر ما کرسی که ماموریم خدمت را یک جب نبی کہتا ہے کہ میں حاکم نہیں بنایا گیا بلکہ خدمت کے لئے مجھے عہدہ دیا گیا ہے تو ہر ایک کو یہی سمجھنا چاہئے کہ عہدہ خدمت کا ذریعہ ہے اور ان کی اطاعت اس لئے کرائی جاتی ہے کہ اس کے بغیر خدمت نہیں ہو سکتی۔پس لوگ تمہاری اطاعت اس لئے نہیں کرتے کہ تمہیں حکومت حاصل ہے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ اس ذمہ داری کو تم ادا نہیں کر سکتے اگر