خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 115

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۱۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء اطاعت نہ ہو۔پس یہ خصوصیت سے معلوم ہونا چاہئے کہ جو کام ناظر صاحبان کرتے ہیں وہ خدمت کے طور پر کرتے ہیں، افسر کے طور پر نہیں اور ان کی اطاعت کے لئے جو کہا جاتا ہے تو اس لئے کہ اس کے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔امید ہے کہ اس جذبہ سے وہ کام کریں گے۔اسی طرح دیگر احباب کو معلوم ہو کہ میں ایک ہوں اور میں خود سارے کام نہیں کرسکتا۔میرا کام نگرانی ہے اس سے زیادہ کام کرنا ناممکن ہے اور یہی اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے لئے روزانہ ۲۴ گھنٹے بھی کافی نہیں ہو سکتے۔یہ میرا کام تبھی پورا ہوسکتا ہے کہ دونوں بازو کام کریں۔جماعت اپنا حصہ پورا کرے، ناظر اپنا حصہ۔پس میں دونوں سے درخواست کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے فرائض کو پورا کریں گے۔یہ نہ میرا کام ہے نہ ان کا بلکہ خدا کا ہے اس لئے جماعت والے احکام کی تعمیل کریں اور ناظر اپنے فرائض بجا لائیں اور یہ بھی تحقیقات کرتے رہیں کہ نمائندوں نے اپنے اپنے فرائض کی تعمیل کی ہے یا نہیں۔گزشتہ سال جو کوتاہی ہوئی ہے میرے نزدیک اس کے بھی ناظر ذمہ وار ہیں۔جماعت کے لوگوں نے کام نہیں کیا تو ناظروں نے بھی یاد دہانی نہیں کرائی اگر ان سے پوچھتے رہتے تو ایسا نہ ہوتا۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ہماری کوششوں کو با برکت کرے، ان کے نیک نتائج پیدا کرے، باہر سے آنے والوں کی تکالیف دور کرے اور جن کے وہ نمائندے ہیں انکی تکالیف کو بھی دور کرے۔آجکل ملک میں طاعون پھیلی ہوئی ہے جیسا کہ رویا میں مجھے قبل از وقت بتایا گیا تھا۔یہ سلسلہ کی صداقت کا نشان ہے اور اگر کوئی احمدی بھی مبتلا ہو تو نشان دہندہ ہو جاتا ہے۔گو حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ مومن کے لئے یہ بشارت ہے مگر چونکہ نشان دہندہ ہو جاتا ہے اس لئے دُعا ہے کہ خدا ہماری جماعت پر رحم کرے۔پھر ہم کو دُعاؤں میں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ ہمارے مقروض، ہمارے مصیبت زدہ، ہمارے ایسے بھائی جن میں اخلاقی اور دینی نقص ہیں، ان کے نقص دور ہوں اور جو اللہ کا قرب چاہنے والے ہیں ان کی اس خواہش کو پورا کرے اور جن کے دلوں میں یہ خواہش نہیں، اُن میں یہ خواہش پیدا کرے تا کہ ہم سارے کے سارے خدا ہی کے لئے اور خدا میں ہو کر کام کریں۔“ ( مطبوعہ رپورٹ مجلس مشاورت مارچ ۱۹۲۴ء) ا الانعام: ۱۳۵،۱۳۴ محمد: ۳۹