خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 113
خطابات شوری جلد اوّل ۱۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء پھر یہ بھی فائدہ ہے کہ اس موقع پر جو دوست ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں ان کی جان پہچان ہو جاتی ہے، یہ جلسہ پر نہیں ہو سکتا۔کل شیخ یعقوب علی صاحب نے آپس میں تعارف کرایا ہے لیکن اس سے بھی عمدہ طریق پر یہ کام ہوسکتا ہے۔پس مجلس شوری کے اور فوائد کے علاوہ یہ بھی ہے کہ احباب کی تربیت اور تعلیم ہو۔آپس میں تعلقات قائم ہوں۔جو دوست یہاں یہ فوائد دیکھتے ہیں وہ دوسروں کو واقف کریں اور شوریٰ میں آنے کی ممکن سے ممکن اور زیادہ کوشش کریں۔اب بھی سارے قائمقام نہیں آئے۔۳۰۰ کے قریب انجمنیں ہیں۔کم از کم تین سو آنے چاہئیں۔گواب پہلے سے زیادتی ہے مگر ضرور یہ تحریک ہونی چاہئے کہ سب احباب آئیں۔کیونکہ اس موقع پر بہت سے فوائد ایسے حاصل ہوتے ہیں جو سالانہ جلسہ پر نہیں ہو سکتے اور جو جلسہ کے فوائد ہیں وہ اس وقت نہیں حاصل ہو سکتے اس لئے دونوں موقعوں پر آنا چاہئے۔سلسلہ کی ضروریات، حالات ، مشکلات سے واقفیت اور مناصرت کی جو روح مجلس مشاورت کے موقع پر پیدا ہوتی ہے وہ اُس وقت نہیں ہوتی اور سلسلہ کی عظمت کہ کتنا پھیل گیا ہے، کس قدر لوگ جمع ہوتے ہیں ، کن مشکلات سے لوگ یہاں آتے ہیں، کیسا اخلاص ظاہر کرتے ہیں، مشکلات میں رہتے ہیں، یہ باتیں مجلس کے وقت نہیں ہوتیں۔جلسہ کی کیفیت حج کی کیفیت کے مشابہہ ہے۔حج کے لئے جو جاتا ہے وہ دیکھتا ہے کس طرح صور اسرافیل پھونکا گیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لوگ دیوانہ وار جمع ہوتے ہیں۔اسی طرح یہاں ہوتا ہے کہ کس طرح خدا نے ایسے چھوٹے سے گاؤں میں ایک انسان کو پیدا کیا جہاں کوئی وجہ آنے کی نہیں مگر لوگ کس کثرت سے آتے ہیں۔جو گھروں میں اچھا کھانا کھاتے ، آرام سے رہتے ہیں اور یہاں اُن کو چار پائی بھی نہیں ملتی یہ ایک عجیب نظارہ ہوتا ہے جو ایمان اور وثوق ا کرتا ہے۔مگر جلسہ کے موقع پر سلسلہ کے کاموں سے واقف نہیں ہو سکتے۔آج ہی جو مشکلات تبلیغ کی بیان کی گئی ہیں وہ اُس وقت بیان نہیں کر سکتے کیونکہ دشمن ان سے یہ نتیجہ نکالیں گے کہ کچھ کام نہیں ہو رہا۔حالانکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ جو ملکانہ میں جا کر جو خدمتِ دین کرتے ہیں اگر اُس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو ہم نے اپنا فرض خدا کے حضور ادا کر دیا۔غیر کام کے نتائج سے اندازہ لگاتا ہے لیکن ہم فرائض کے پورا کرنے کے لحاظ سے اندازہ کرتے ہیں۔