خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 112

خطابات شوری جلد اوّل ۱۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء چونکہ سُودی ملتا ہے، وہ اس طرح کام نہیں چلا سکتے جس طرح اور چلا سکتے ہیں۔اس کا اثر دینی کاموں پر بھی پڑتا ہے۔اس لئے قرضہ کے لئے ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ سُود بھی نہ دینا پڑے اور ضروریات کے وقت قرضہ بھی مل جائے۔اسی طرح ایک اور طریق ہے اور وہ یہ ہے ساؤتھ امریکہ میں گاؤں والے ایک جگہ زمین جمع کر لیتے ہیں۔اگر ہمارے مربعوں والے ایسا کریں کہ اپنی زمین اکٹھی کر لیں تو بہت اچھا کام ہو سکتا ہے۔امریکہ میں گاؤں والے مل کر سوسائیٹیاں بنا لیتے ہیں۔سارے مل کر ٹھیکہ پر اُس کمیٹی کو زمین دے دیتے ہیں اور خود اس کے ممبر ہوتے ہیں اور سوسائٹی میں وہی کام کرتے اور مزدوری لیتے ہیں۔اگر ہم نے دنیا میں حکومت کرنی ہے تو ضروری ہے کہ ہر قسم کے بہترین انتظام کر لیں۔ہمیں چاہئے کہ سوچیں اور سکیم پر غور کریں اور جب بھی فرصت ہو اس پر عمل شروع ہو جائے۔جب ایک دو گاؤں اس کے لئے تیار ہو جائیں تو اس پر عمل شروع ہو جائے۔اگر ضرورت ہو تو مرکز بھی مدد دے سکتا ہے۔اگر اس طرح سکیموں پر غور ہوتا رہے تو ہماری جماعت دینی ہی نہیں ، اقتصادی برتری بھی حاصل کر سکتی ہے۔جو کمیٹی اس کام کے لئے بنی ہے وہ اس امر کو مد نظر رکھ کر غور کرے اور اس قسم کی اور تجاویز پر اور سکیموں پر غور کرے۔“ مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے پر حضور نے درج ذیل اختتامی تقریر فرمائی:- اختتامی تقریر چونکہ اب تمام کارروائی خدا کے فضل سے ختم ہو چکی ہے اس لئے میں مختصر الفاظ کہہ کر اس مجلس کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوست جو اس مجلس شوریٰ میں تشریف لائے اور لاتے رہے ہیں، اُن کی آہستہ آہستہ ایک قسم کی تربیت ہو رہی ہے۔اور علاوہ ان فوائد کے جو ہم اس مجلس سے حاصل کرتے ہیں چونکہ احباب کو مشورہ دینے کا موقع ملتا ہے اس لئے ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ مشورہ کا کیا طریق ہوتا ہے اور یہ بھی کہ خرچ کا اندازہ اور طریق معلوم ہوتا ہے۔پھر بات سے بات نکالنا آتا ہے کیوں کہ بعض دفعہ تو بال کی کھال بھی نکالی جاتی ہے۔