خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 111

خطابات شوریٰ جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء سمجھائے اور تکالیف سے آگاہ کرے۔اب جو کچھ پڑھا گیا ہے اس سے تو بہت سے لوگ ان باتوں کا مطلب بھی نہیں سمجھے ہوں گے۔بعض باتیں صرف تحریک پیدا کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ان کے فوائد بتانے ضروری ہوتے ہیں لیکن ناظر چونکہ ابھی کام سیکھ رہے ہیں اس لئے یہ بوجھ مجھ پر ہی پڑ جاتا ہے اس لئے اب میں بتاتا ہوں۔ہماری جماعت کے لوگوں کو جب قرض لینا پڑتا ہے تو سود میں مبتلا ہو جاتے ہیں حالانکہ سُود سے خدا نے سخت منع کیا ہے۔مگر جو مشکلات میں ہوتے اور سود پہلے سے لے چکے ہوتے ہیں اُن کے لئے مشکل ہوتا ہے۔بعض جائدادیں بیچ کر سُود سے بچ جاتے ہیں۔مگر بعض کے پاس اتنی جائیداد نہیں ہوتی کہ قرض ادا کر سکیں۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ سُود نہیں دیتے مگر ان کو کوئی قرض دیتا ہی نہیں۔ان مشکلات کی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ قرضہ کا طریق جاری ہو جو مختلف سوسائٹیوں کے لئے الگ ہو۔زمیندار، تاجروں ، ملازموں کے لئے علیحدہ علیحدہ قسم کی سوسائٹیاں ہوں۔تاجر یوں کر سکتے ہیں کہ مثلاً سو تاجر مل جائیں ، دس روپیہ مہینہ ہر ایک دیتا رہے ایک ہزار ماہوار جمع ہو یعنی ۱۲ ہزار سالانہ۔اس میں سے چھ ہزار سے ایسی کمیٹیوں کے حصہ خرید لیں جس سے وقتی ضروریات یا نقصان کو پورا کر سکیں۔اور بقیہ رقم کو اس لئے رکھیں کہ جس کو ضرورت ہو اپنے ممبروں میں سے اُس کو قرض دیا جائے۔آہستہ آہستہ یہ کام بہت وسیع ہو جائے گا۔اسی طرح زمیندار ہیں جو حصہ مقرر کر لیں کہ اتنے روپیہ چندہ دینے والے کو اتنا قرض دیا جا سکتا ہے جس قدر روپیہ جمع ہو، نصف کو قرضہ کے لئے رکھیں اور باقی سے زمین خرید لیں۔ان کی آمد سے نقصان وغیرہ پورا کیا جائے۔اس طرح قرض اُترنا شروع ہو جائے گا۔اس قسم کی سوسائیٹیاں بن جائیں تو ان سے ان کو قرضہ ملے گا جس کو ضرورت پڑے۔اگر ایسا نہ ہوگا تو سب آدمی سُود سے نہیں بچ سکتے۔مگر یہ طریق نہیں چل سکتا جب تک سارے اس کے لئے متفق نہ ہوں اور ان میں یہ کام کرنے کی روح نہ پیدا ہو۔یہ سکیم ہے۔اس کے لئے کہتے ہیں کمیٹی مقرر کی گئی ہے۔مگر وہ ایک ہے، تین ہونی چاہئیں۔(۱) تاجروں کی (۲) ملازموں کی (۳) زمینداروں کی۔اقتصادی طور پر جماعت گرتی جارہی ہے کیونکہ احمدی ایک طرف چندہ زیادہ دیتے ہیں اور دوسری طرف یہ کہ قرض