خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 110

خطابات شوری جلد اوّل 11۔مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء کرنی چاہئے۔جسے سب کمیٹی منظور یا نامنظور کرے اور وہ باتیں ایسی ہوں جو ماننے والی ہوں اور دوسری جو ہوں وہ الگ پیش کرنی چاہئیں۔ان پر رائے لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ہمارے پاس سزائیں ہیں ہی کتنی، ایک ہی ہے یعنی قطع تعلق۔اس لئے اس معاملہ کو اس رنگ میں پیش کرنا چاہئے تھا کہ جماعت کو جس قدر مدد اس بارے میں امور عامہ کی کرنی چاہئے اتنی نہیں کرتی۔ہمیشہ تجربہ ہوا ہے کہ لوگ عام طور پر مجرم کی ہمدردی کرتے ہیں۔وجہ یہ کہ جس کے خلاف فیصلہ ہو وہ شور مچاتا اور لوگوں کو سُنا تا پھرتا ہے اور جن کو سُنا تا ہے کہ مجھ پر یہ ظلم ہوا وہ اُس کی تائید میں ہو جاتے ہیں۔پس یہ قاعدہ ہے کہ مجرم عیب کو چھپاتا رہتا ہے اور اس کے لئے واویلا کرتا ہے۔اس طرح لوگ اُس کے ہمدرد ہو جاتے ہیں۔لڑکوں کی شکایتیں آتی ہیں ایک دفعہ ایک شکایت آئی کہ لڑکا عربی میں ہوشیار تھا ماسٹر نے یونہی فیل کر دیا ہے۔ممتحن نے اُسے ۱۰۰ میں سے ۳ نمبر دیے تھے۔جب میں نے پرچہ منگایا تو معلوم ہوا تین نمبر بھی دینے کے قابل نہ تھا۔ابھی ایک مقدمہ کا فیصلہ کیا گیا ہے ایک لڑکے نے ایک عورت کا بُرقعہ اُتار کر اُسے مارا۔میں نے جب اس کا فیصلہ کیا تو میرے پاس اُس کے متعلق ایک چٹھی آئی کہ اندھیر ہو گیا، ظلم ہو گیا۔اگر اس طرح کیا جائے گا تو لوگ کیوں نہ نافرمانی کریں گے۔اس کے مقابلہ میں یہ ہونا چاہئے کہ اگر کوئی ایسا شخص آئے تو اُسے کہیں ہم نے تمہارا کیس نہیں سُنا پھر کس طرح تیری تائید کر سکتے ہیں۔عدالت نے جو کیا ہے حالات کے مطابق کیا ہے وہی سچا فیصلہ ہے ہمارا حق نہیں کہ اُسے جھوٹا کہیں۔اس طرح نافرمانی دور ہو سکتی ہے۔پس جماعت یہ کرے کہ مجرموں کی تائید نہ کرے۔“ اس کے بعد سب کمیٹی امور عامہ کی رپورٹ پیش کی گئی۔اس میں قرضہ سکیم، کو آپریٹو سوسائٹی، اجتماع اراضی اور پول سسٹم وغیرہ سکیموں کا ذکر تھا جن کا فائدہ واضح کرنے کی ضرورت تھی۔چنانچہ حضور نے ان کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : - دو بات یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لئے بعض مشکلات ہیں جن کا دور کرنا ضروری ہے۔بعض ایسی باتیں ہیں جن سے دُنیا فائدہ اُٹھا رہی ہے اور اگر ہماری جماعت کے لوگ بھی ہمت کریں تو فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اس لئے میں نے امور عامہ کو کہا تھا کہ سکیم تیار کریں۔صیغہ کے افسر کا یہ بھی فرض ہے کہ جو سکیم پیش کرے، اُس کی ضرورت اور وجہ اور فائدہ