خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 109

خطابات شوری جلد اوّل 1+9 مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء دوسری جگہ کو مضبوط کر دیا جائے اور کام کو سکیڑ لیا جائے۔سب کمیٹی کو اس کے متعلق سکیم پیش کرنی چاہئے تھی مگر اس نے نہیں کی اب ان امور کے متعلق مشورہ دیا جائے۔“ اس موقع پر بعض ممبران نے آراء دیں۔اس پر حضور نے فرمایا: - اس کے متعلق عملی لحاظ سے غور کرنا چاہئے۔اب جو عمارت ہے وہ ۶ لاکھ مالیت کی ہے جس کے لئے 9 لاکھ اور روپیہ کی ضرورت ہے اس لئے یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ کیا احمدی عورتیں ایک یا دو سال میں یہ رقم جمع کر سکتی ہیں۔اگر ان کا ۳۰ ہزار سالا نہ بھی چندہ رکھا جائے تو ۳۰ سال میں پورا ہوگا اور اتنے میں پہلی عمارت خراب ہو جائے گی۔ایسی صورت میں دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس کام کو کر سکتے ہیں یا نہیں۔آیا احمدی عورتیں 9 لاکھ جمع کر سکتی ہیں۔میرا تجربہ یہ ہے کہ اتنا تو مرد بھی نہیں کر سکتے۔عورتوں نے ۸۰ ہزار روپیہ جمع کیا ہے مگر بیسیوں عورتیں ایسی ہیں کہ جنہوں نے سارا زیور دے دیا ہے اور پہلے جنہوں نے ۱۰۰،۱۰۰ روپیہ چندہ دیا اب دس ہیں بھی نہیں دے سکیں گی اس لئے نہیں کہ ان میں اخلاص نہیں بلکہ اس لئے کہ ان کے پاس اب ہے ہی نہیں۔ان میں خاص چندہ کی طاقت نہیں ہے۔ہم قادیان میں اور اپنے گھر کا اندازہ کر کے کہہ سکتے ہیں کہ ان میں طاقت نہیں۔ہاں اگر باہر کی عورتوں میں طاقت ہے تو ہمارے لئے خوشی کی بات ہے۔ہم چندہ لینے کے لئے تیار ہیں۔“ امور عامہ کی سکیمیں اور پیش کرنے کا طریق نظام جماعت کے ماتحت جولوگ فیصلہ جات کو نہیں مانتے اور نظام کو توڑتے ہیں اُن کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے اور ان کی تربیت کے لئے کیا ذرائع اختیار کئے جائیں؟ اس پر احباب نے اپنے اپنے خیال کے مطابق مختلف سزائیں مثلاً عہدہ سے ہٹانا قطع تعلق ہلا اخراج وغیرہ کا ذکر کیا۔اس پر حضور نے فرمایا :- ” میں نے پچھلی دفعہ بھی سمجھایا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ بعض امور رائے لینے کے قابل نہیں ہوتے۔بعض صرف پیش کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ہمارے دوستوں کو ابھی اتنی واقفیت نہیں اس لئے مجھے ہی سب کچھ بتانا پڑتا ہے اس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔ناظروں کو سکیم پیش