خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 108
خطابات شوری جلد اوّل مشاورت ۱۹۲۴ء لگتے ہیں۔پھر یہ مشکل ہے کہ مکان کی شکل ابھی مسجد کی نہیں بنی اس لئے لوگ نہیں آتے۔ان مشکلات کی وجہ سے کامیابی کی امید مشکل ہے۔امریکہ کی مشکلات امریکہ کی حالت نسبتاً بہتر ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ہمارے حاکم نہیں اس لئے توجہ کرتے ہیں۔دوسرے وہاں دو کروڑ حبشی ہیں وہ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں۔تیسرے امریکہ میں مذہبی دلچسپی زیادہ پائی جاتی ہے۔چوتھے وہ لوگ تحریروں کی بجائے لیکچر زیادہ سنتے ہیں اور خود خرچ دے کر لیکچر سنتے ہیں۔مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ امریکہ کا ملک بہت بڑا ہے۔ایک مبلغ سارے علاقہ میں تبلیغ نہیں کر سکتا۔اس وجہ سے وہاں بھی تبلیغ کا سلسلہ وسیع نہیں ہو سکا۔مفتی صاحب نے ہمت کر کے رسالہ جاری کر دیا تھا مگر علاقہ چاہتا ہے کہ ایک مبلغ نہیں کام کر سکتا، اور ہوں۔جرمنی کی مشکلات جرمنی میں مشن اس لئے رکھا گیا تھا کہ اس کی حالت گری ہوئی ہے، وہ لوگ توجہ کریں گے۔دوسرے یہ کہ وہاں مشن رکھنے سے روس میں بھی تبلیغ ہو سکے گی۔تیسرے یہ کہ سکہ کی قیمت اس قدر گر گئی تھی کہ ۹۰ روپے میں مُبلغ گزارہ کر سکتا تھا۔مگر اب حالات بدل گئے ہیں اور جو باتیں مد نظر تھیں ان سے ایک بھی بات پوری نہ ہوئی۔ان لوگوں کو خدا کی طرف توجہ نہ ہوئی۔وجہ یہ کہ ان کی حالت اس حد سے گزرگئی ہے جہاں کہ خدا کی طرف توجہ ہو سکتی ہے۔پھر روس کے متعلق جو امید تھی وہ بھی پوری نہ ہوسکی کیونکہ جرمن اور روس کے تعلقات اچھے نہ رہے۔ادھر یہ مشکل پیش آئی کہ جب مسجد کے لئے سامان خرید لیا گیا تو ایسے سامان پیدا ہو گئے کہ حالت بدل گئی۔کاغذی روپیہ کو ملی طور پر منسوخ کر دیا گیا اور سکہ سونے کا جاری کر دیا اس وجہ سے دو تین سو گنا قیمت بڑھ گئی۔اور جو فائدہ پہنچ سکتا تھا، ضائع ہو گیا۔اس وجہ سے بجائے ۶ پونڈ کے کم از کم ۲۵ پونڈ ماہوار ایک مبلغ کا خرچ ہو گیا ادھر مسجد کے لئے یہ دقت پیش آئی کہ پہلے اندازہ تھا ۳۰ ہزار میں عظیم الشان مسجد تیار ہو جائے گی۔مگر ان تغیرات کی وجہ سے یہ اندازہ ہے کہ ۵ لاکھ روپیہ لگے گا اور یہ ہم لگا نہیں سکتے۔اب اگر سامان رہے گا تو خراب ہو جائے گا۔ان مشکلات کی وجہ سے دوصورتیں ہیں۔ایک یہ کہ جب تک خدا کوئی خاص سامان نہ پیدا کر دے، اسی طرح گرتے پڑتے کام جاری رکھیں۔(۲) یہ کہ بیرونی ممالک کے کسی مشن کو بند کر دیا جائے اور