خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 107
خطابات شوری جلد اوّل 1۔6 مشاورت ۱۹۲۴ء نے تحریراً حضور کی خدمت میں بھجوائی۔اس کے متعلق حضور نے فرمایا: - خلافت کے متعلق برادر عزیز مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک تجویز لکھ کر بھیجی ہے گو خوشی یہ تھی کہ وہ خود ہی بیان کرتے۔یہ تجویز بہت معقول ہے۔اس سے وہ وقت بھی حل ہو گئی ہے جس کے متعلق او پر خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔اسے پہلے فیصلہ کے ساتھ بطورشق (ب) کے شامل کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے :- یہ ضروری ہوگا کہ وہ خلیفہ وقت جس کو پہلے خلیفہ نے منصب خلافت کے لئے نامزد کیا ہے اپنے جانشین کو خود نامزد نہ کرے۔نامزد شد ہ خلیفہ کا جانشین صرف مجلس شوریٰ ہی منتخب کر سکتی ہے۔“ بیرونی ممالک میں مشکلات سب کمیلی دعوۃ و تبلیغ کی رپورٹ پیش ہونے پر حضور نے بیرونی ممالک میں تبلیغ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: - قابل غور ولایت کی تبلیغ کا معاملہ ہے۔تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ جب تک ولایت میں خاص طریق سے تبلیغ نہ ہو گی معتد بہ کامیابی نہ ہوگی۔انگلستان میں 9 سال سے تبلیغ ہو رہی ہے۔اس عرصہ میں نام کے طور پر چار سو کے قریب لوگ داخل ہو گئے ہیں۔یہ ہماری ہی بات نہیں ، پیغامیوں کا بھی یہی حال ہے۔مگر ان کے اغراض اور کام میں اور ہمارے اغراض میں فرق ہے۔ان کی غرض یہ ہے کہ مسلمان کہلانے والوں کے نام ملتے جائیں تا کہ چندہ ملتا رہے مگر اس طرح ہماری غرض پوری نہیں ہوتی۔پھر ایک اور فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست میں مخالفت کی وجہ سے بڑے بڑے لوگ نہیں آتے۔بڑے بڑے مسلمان لوگ دو کنگ جاتے ہیں۔ان کی وجہ سے بعض ایسے لوگ جو ہمارے تیار کردہ ہوتے ہیں، دوکنگ میں جا کر اعلان کر دیتے ہیں اور علمی طبقہ کے لوگ بھی اُدھر جاتے ہیں۔پھر کوئی ایسا ذریعہ اختیار نہیں کیا گیا کہ جس سے زیر تبلیغ لوگوں کے ساتھ تعلق رکھیں۔لٹریچر نہیں پہنچتا، دوبارہ یاد دہانی یا تربیت کی کوئی سبیل نہیں ہوتی۔پھر غلطی سے جو مکان خریدا گیا ہے وہ لنڈن سے دور ہے۔آنے جانے میں دوشلنگ۔