خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 106
خطابات شوری جلد اوّل 1+4 مشاورت ۱۹۲۴ء اصول کے خلاف جانشین مقرر کرے تو وہ جائز نہ سمجھا جائے گا اور مجلس شوریٰ کا فرض ہوگا کہ خلیفہ کی وفات پر آزادانہ طور سے خلیفہ حسب قواعد تجویز کرے اور پہلا انتخاب یا نامزدگی چونکہ نا جائز تھی وہ مستر دسمجھی جائے گی۔“ مفتی محمد صادق صاحب نے کہا کہ قریبی رشتہ دار کے الفاظ اُڑا دیئے جائیں۔حضور نے فرمایا کہ:- لفظ یعنی سے ان الفاظ کی گو تشریح ہو جاتی ہے مگر ان کو اُڑا ہی دیتے ہیں۔چنانچہ ان کو اُڑا کر اس طرح عبارت کر دی گئی۔,, کوئی خلیفہ اپنے بعد اپنے باپ یا بیٹے۔۔۔66 خاکسار ( مُرتب رپورٹ ) رحیم بخش نے کہا کہ حضور کے اس فیصلہ سے کہ کوئی خلیفہ اپنے کسی رشتہ دار کو اپنا جانشین نہ مقرر کرے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ داروں کے سوا سے دوسرے لوگوں میں سے خلیفہ اپنا جانشین مقرر کر سکتا ہے۔جیسا کہ پہلے خلفاء کی سنت ثابت ہوتا ہے لیکن اس صورت میں وہی خطرہ باقی رہ جاتا ہے جس کا انجمن کے ضمن میں ذکر آیا تھا اور وہ یہ کہ ہر خلیفہ اپنا جانشین اپنے مطلب کے مطابق مقرر کر سکتا ہے۔اگر وہ ظالم ہے تو دوسرا بھی اس قسم کا ہوگا اور اس صورت میں قوم کے لئے بھی دخل دینے کا کوئی موقع نہیں رہے گا۔اس لئے جس طرح حضور نے خلیفہ کے اس اختیار کو جو اپنا جانشین مقرر کرنے کے متعلق ہے اس قید سے کہ اپنے رشتہ دار کو اپنا جانشین نہ مقرر کرے محدود کر دیا ہے اس طرح اس خطرہ سے بچنے کے لئے بھی کوئی صورت ہونی چاہئے یا پھر رشتہ داروں کو بھی مستی نہیں کرنا چاہئے۔وہ کیوں محروم رہیں۔چوہدری نصر اللہ خان صاحب نے اس کی تائید کی۔حضور نے فرمایا: - اگر خلیفہ کے رشتہ داروں میں سے کوئی شخص خلافت کا اہل ہوگا تو خلیفہ خواہ مخواہ کسی دوسرے کو اپنا جانشین نہیں مقرر کرے گا۔قدرتی طور پر وہ خاموش رہے گا۔“ نامزد شدہ خلیفہ اپنا جانشین نہیں مقرر کر سکتا اس سلسلہ میں ایک تجویز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے