خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 105
خطابات شوری جلد اول ۱۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء شیخ یعقوب علی صاحب نے کہا کہ میری طبیعت تو اس قید کو پسند نہیں کرتی ۔ شوری پر فرض کرنا چاہئے کہ وہ مناسب رقم معین کرے خلیفہ کو پابند نہیں کرنا چاہئے۔ مولوی محمد اسمعیل صاحب نے کہا کہ یہ ریزولیوشن تو خلیفہ کی بیعت کے منافی ہے۔ بیعت کے ساتھ کوئی شرط نہیں ہونی چاہئے۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ :- دو یہ بیعت کرنے والوں کی طرف سے شرط نہیں ہے بلکہ یہ تو اس طرح لکھا جائے گا کہ خلیفہ اسیح الثانی کا یہ طریق ہے اور اس نے یہ ہدایت چھوڑی ہے۔ شوری کا فیصلہ نہیں ہے یہ تو اس طریق کا اقرار ہے جو خلفاء نے اختیار کیا ہے۔“ اس کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل فیصلہ فرمایا ۔ دو فیصلہ ہر خلیفہ کے متعلق مجلس شوری فیصلہ کرے کہ اُس کو کس قدر رقم گزارے کے لئے ملے گی۔ اور دوران خلافت میں بھی اگر حالات متقاضی ہوں تو مجلس شوری کے لئے ضروری ہوگا کہ اس رقم کو بڑھا دے۔ ضروری ہوگا کہ یہ رقم وقت کی ضروریات اور حالات کے مطابق ہو۔ اور خلافت کے وقار کو اس میں مد نظر رکھا جائے ۔ مجلس شوری کو جائز نہ ہو گا کہ بعد میں کبھی اس رقم میں جو مقرر کر چکی ہے کمی کرے ۔ اِس مشورہ کے دوران میں خلیفہ وقت اس مجلس میں شریک نہیں ہوں گے۔“ اس کے بعد فرمایا۔ وو کوئی خلیفہ اپنے کسی رشتہ دار کو حضرت عمرؓ کا طریق ہے اور میرے نزدیک عقلاً کسی رشتہ دار نہیں ہوا کیا بھی یہی ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کوئی خلیفہ اپنے کو اپنا جانشین نہیں مقرر کر سکتا بعد اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو یعنی اپنے باپ یا بیٹے اپنا مار سکتا یا ان ساری رات اور روانی یا بھائی یا بہنوئی یا داماد کو یا اپنے باپ یا بیٹوں یا بیٹیوں یا بھائیوں کے اوپر یا جانے کی طرف اسر سکتا۔ نہ کسی خلیفہ کی زندگی میں مجلس شوری اُس کے کسی مذکورہ بالا رشتہ دار کو اُس کا جانشین یفہ کی زندگی میں جس شوری یا بیٹیوں یا بھائیوں کے اوپر یا نیچے کی طرف اُس کے رشتہ داروں کو اپنا جانشین مقرر نہیں کر ت اس کے رشتہ داروں کو اپنا جانشین مقرر کر سکتی ہے۔ نہ کسی خلیفہ کے لئے جائز ہوگا کہ وہ وضا حنا یا اشارتاً اپنے کسی ایسے مذکورہ بالا رشتہ دار کی نسبت تحریک کرے کہ اُس کو جانشین مقرر کیا جائے ۔ اگر کوئی خلیفہ مذکورہ بالا