خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 101

خطابات شوری جلد اوّل 1+1 مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء اخلاقاً دقتیں ہوں گی۔ہاں اگر کوئی عالم صاحب کچھ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں وہ تجویز یہ ہے۔خلیفہ وقت سلسلہ کے اموال کو ہلا مجلس شوریٰ سے مشورہ لینے کے اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ نہیں کر سکتا۔یعنی کوئی رقم ماہوار یا یکمشت اپنی ضروریات کے لئے نہیں لے سکتا جب تک مجلس شوری کی کثرتِ رائے اس امر پر اپنی رضا ظاہر نہ کرے لیکن گو اس وقت تک خلفاء، خلافت کے کام کے بدلہ میں کوئی گزارہ نہیں لیتے ہو سکتا ہے کہ آئندہ اس کا بھی انتظام کرنا پڑے۔اور بعض خلفاء ایسے ہوں جو بلا کسی ایسے انتظام کے گزارہ نہ کر سکیں اس لئے یہ ضروری ہوگا کہ ہر نئے خلیفہ کے متعلق مجلس شوریٰ فیصلہ کرے کہ اُس کو اس قدر رقم گزارہ کے طور پر ملے گی۔کسی خلیفہ کو جائز نہیں ہو گا کہ شوریٰ کے اس فیصلہ کو تو ڑے کیونکہ خلفائے سابقین کا یہی طریق رہا ہے۔اور خلیفہ کا اپنے نفس کے متعلق اس قید کو قبول کرنا حُسنِ انتظام کے لئے ضروری ہے۔ہاں مجلس شوری کو یہ جائز نہ ہوگا کہ بعد میں کبھی اُس رقم میں جو مقرر کر چکی ہے کمی کرے۔مگر خلفاء اپنی وسعت ادا ئیگی کے مطابق حسب سنت خلفائے راشدین قرض بیت المال سے لے سکتے ہیں۔“ اس کے بعد حضور کی اجازت کے مطابق دو بزرگ علمائے سلسلہ نے اس تجویز کے بارہ میں اپنی آراء پیش کیں۔اُنہیں سننے کے بعد حضور نے فرمایا:۔اس تجویز کی بناء کیا ہے اس تجویز کی بناء یہ ہے کہ جب حضرت ابو بکر خلیفہ مقرر ہوئے تو دوسرے تیسرے دن کسب معاش کے لئے نکلے۔صحابہ نے کہا کہ اس صورت میں آپ خلافت کس طرح کریں گے؟ اُنہوں نے کہا پھر گزارہ کس طرح کروں؟ صحابہ نے مشورہ کیا اور ایک رقم اُن کے لئے مقرر کر دی۔حضرت عمر کے زمانے میں بھی اسی طرح ہوا کہ مشورہ سے اُن کے لئے رقم مقرر کی گئی لیکن کچھ عرصہ کے بعد جب مال کثرت سے آئے اور چیزیں گراں ہو گئیں ادھر اہل وعیال بڑھنے لگے تو بعض صحابہ نے محسوس کیا کہ حضرت عمرؓ کا گزارہ تنگ ہے۔ایک نے دوسرے سے ذکر کیا کہ حضرت عمر کا گزارہ تنگ ہے، کچھ انتظام کرنا چاہئے۔دوسرے نے کہا وہ خود تو نہیں کہتے۔اُس نے کہا وہ کبھی بھی نہیں کہیں گے۔اس لئے مشورہ ہوا اور حضرت حفصہ سے ذکر کیا کہ چونکہ حضرت عمرؓ کا گزارہ تنگ ہے اس لئے ہم نے یہ تجویز کی ہے مگر ہم اُن سے ذکر