خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page xii
(viii) اُسے اُٹھاتی ہے اور آئندہ بھی اٹھائے گی“۔(خطابات شورای صفحه : ۲۶۹) اپنی موعود خلافت کے بارہ میں آپ مجلس شورای ۱۹۳۶ء سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں اس لئے خلیفہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے دوسرے دن جماعت احمدیہ کے لوگوں نے جمع ہو کر میری خلافت پر اتفاق کیا بلکہ اس لئے بھی خلیفہ ہوں کہ خلیفہ اول کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا۔پس میں خلیفہ نہیں بلکہ موعود خلیفہ ہوں۔میں مامور نہیں مگر میری آواز خدا تعالیٰ کی آواز ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس کی خبر دی تھی۔گویا اس خلافت کا مقام ماموریت اور خلافت کے درمیان کا مقام ہے اور یہ موقع ایسا نہیں ہے کہ جماعت احمد یہ اسے رائیگاں جانے دے اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جائے۔جس طرح یہ بات درست ہے کہ نبی روز روز نہیں آتے اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ موعود خلیفے روز روز نہیں آتے۔“ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء) اس کے بعد آپ نے اپنے خطاب میں احباب جماعت کو متحد الخيال هو کر خلیفہ کو اپنا استاد سمجھنے کے زریں اصول کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا : و پس ضرورت ہے اس بات کی کہ جماعت متحدُ الخَیال ہوکر خلیفہ کو اپنا ایسا اُستاد سمجھے کہ جو بھی سبق وہ دے اُسے یاد کرنا اور اس کے لفظ لفظ پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھے۔اتحادِ خیالات کے ساتھ قومیں بہت بڑی طاقت حاصل کر لیا کرتی ہیں ورنہ یوں نظام کا اتحاد بھی فائدہ نہیں دیتا جب تک اتحادِ خیالات نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔جماعت کا ہر فرد میرے ساتھ تعاون کرے۔ہر