خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page xiii
(ix) خطبہ جو میں پڑھتا ہوں، ہر تقریر جو میں کرتا ہوں اور ہر تحریر جو میں لکھتا ہوں اُسے ہر احمدی اس نظر سے دیکھے کہ وہ ایک ایسا طالب علم ہے جسے ان باتوں کو یاد کر کے ان کا امتحان دینا ہے اور ان میں جو عمل کرنے کے لئے ہیں اُن کا عملی امتحان اُس کے ذمہ ہے۔اس طرح وہ میری ہر تقریر اور تحریر کو پڑھے اور اس کی جزئیات کو یادر رکھے۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء) حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود ۱۹۲۲ء سے ۱۹۶۰ء تک مجالس شورای میں بنفس نفیس شمولیت فرماتے رہے۔ان مواقع پر آپ نے قدم قدم پر احباب جماعت کی راہنمائی فرمائی ،خلیفہ کے مقام کو بیان فرمایا ، جماعتی ترقی کے آئندہ پروگراموں کی منصوبہ بندی فرمائی اور جماعت میں نظام شورای کا مضبوط اور مفید نظام رائج فرما دیا۔مجالس شورای کے موقع پر آپ نے بے نظیر فراست و ذہانت اور حیرت انگیز قوت فیصلہ اور اولوالعزمی کا شاندار ثبوت دیا۔مجالس شورای کے خطابات کو اب کتابی صورت میں احباب جماعت کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے اس کتاب کا نام ” خطابات شورای“ رکھا گیا ہے۔جس کی پہلی جلد احباب جماعت کی خدمت میں پیش ہے جو ۱۹۲۲ء سے ۱۹۳۵ء کی مجالس شورای کے خطابات پر مشتمل ہے۔انشاء اللہ تین جلدوں میں خطابات شوری کا سیٹ مکمل ہو جائے گا۔مجالس شورای کے خطابات کے مسودہ کی تیاری کا ابتدائی کام مکرم چوہدری رشیدالدین صاحب مربی سلسلہ نے سرانجام دیا جس کے لئے وہ ہمارے خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کی خواہش پر محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب نے بہت وقت دے کر ۱۹۲۲ء تا ۱۹۶۱ء کی مجالس مشاورت کی تمام رپورٹس کو بالاستیعاب پڑھ کر بعض مقامات کی نشان دہی کی کہ ان پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔اور آخری مرحلہ پر تقریبا دو ہزار صفحات پر مشتمل فائنل پروف کو ایک دفعہ پھر پڑھ کر بعض غلطیوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نہایت قیمتی مشوروں سے بھی نوازا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ - محترم سید عبدائی شاہ صاحب ناظر اشاعت و نائب صدر فضل عمر فاؤنڈیشن کا بھی