خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 90
خطابات شوری جلد اوّل ۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء سننے سُنانے پر ہی صرف ہو جائے گا اور کام نہ ہو سکے گا اس لئے اس سال میں نے اور تجویز کی ہے اور وہ یہ کہ نظارت کو ہدایت کی ہے کہ بیرونی جماعتوں سے اکتوبر میں رپورٹیں طلب کرے۔دسمبر تک سب رپورٹیں آجائیں اور ان کا خلاصہ نکال کر ناظر اعلیٰ مجلس مشاورت کے موقع پر پیش کرے۔پھر اس پر تنقید ہو کہ کس جماعت نے سُستی کی ہے اور کس نے چستی سے کام لیا ہے۔اس سال ایک اور تجویز ہے اور وہ یہ کہ ان باتوں کا خلاصہ نکال کر جن کے کرنے کی اُمید جماعتوں سے کی گئی تھی۔میں ایک ایک امر کو اس طرح لوں گا کہ فلاں کام سارا جس جماعت نے کیا ہے، اس کے نمائندے کھڑے ہو جائیں۔اس سے پتہ لگ جائے گا کہ کتنی جماعتوں نے عمل کیا ہے۔پھر دوسرا سوال یہ ہوگا کہ جنہوں نے نصف کام کیا ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔اور تیسرا یہ کہ جنھوں نے کچھ نہیں کیا وہ کھڑے ہو جا ئیں۔وہ سوال جن کے متعلق گزشتہ سال مجلس مشاورت میں فیصلہ ہوا تھا اور جن کی نسبت جماعتوں سے اُمید کی گئی تھی کہ ان کے مطابق کام کریں گے یہ ہیں :- (۱) تمام احمدی عورتوں کو نماز سادہ اور کلمہ با ترجمہ پڑھا دیا جائے اور کوئی ایک احمدی عورت ایسی نہ رہے جسے نماز نہ آتی ہو اور جو کلمہ کا ترجمہ نہ جانتی ہو۔(۲) ایک فرد بھی ایسا باقی نہ رہے جو ز کوۃ نہ دیتا ہو۔(۳) اخلاقی بدیاں کرنے والے مثلاً سُود لینے والے یا شریعت کے احکام کے خلاف کرنے والے سے پرسش کی جاوے اور اگر وہ باز نہ آئیں تو ان کی اطلاع خلیفہ کو دی جاوے۔(۴) ایک اور سوال ہے جو میں نمائندوں سے علیحدگی میں الگ کروں گا۔مشورہ طلب امور اب میں آئندہ پیش ہونے والی تجاویز کو لیتا ہوں۔ایجنڈا شائع ہو چکا ہے۔اس میں مقدم بات ایک انتظام کے متعلق ہے۔دُنیا میں بہترین زمانہ کسی قوم کا وہ زمانہ ہوتا ہے جو کہ نبی کے قریب کا ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہترین زمانہ میرا ہے پھر اُنکا جو میرے بعد آئیں، اس کے بعد حالت خراب ہو جائے گی۔۵ حضرت مسیح موعود نے بھی یہی فرمایا ہے پہلے میرا زمانہ بہتر ہے پھر اس کے بعد کا حتی