خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 88

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۸۸ مشاورت ۱۹۲۴ء اس نبی کو نہ مانو گے۔تمہارے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جاوے گا جو پہلے لوگوں کے ساتھ ہوا۔کہ تباہ ہو جاؤ گے۔پھر اس کے بعد کی آیت یہ ہے۔قُل يُقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمُ التِي عَامِلُ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظلِمُون - کیا صحابہ کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے کہ تم اپنے شرک میں مبتلا رہو میں اپنے عمل کرتا ہوں؟ ہر گز نہیں۔یہ کفار کے متعلق ہے مگر ان آیتوں کو مسلمانوں پر لگایا جا رہا ہے۔پھر یہ آیت پیش کی ہے۔وإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلَ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا آمَثَالَكُم۔اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام کو تباہ کر کے ایسی قوم خدا لائے گا جو مسلمانوں سے اچھی ہو گی۔حالانکہ یہاں تو یہ بتایا ہے کہ اے مسلمانو! اگر تم میں سے کوئی پھر جائے تو اللہ اس کی بجائے اور جماعت لائے گا جو مسلمانوں سے اچھی نہیں ہوگی بلکہ مُرتد ہونے والوں سے اچھی ہوگی۔اب دیکھو یہ تنخواہ لے کر کیسی غداری سے بہائی مذہب کی تائید کی گئی ہے۔پہلے بھی ایک مضمون فاروق میں چھپا ہے اُس میں بھی یہی غداری کی ہے اور الفضل میں بھی اُس نے چند دن کام کیا ہے۔اُس وقت کے مضامین کے متعلق بھی اُس نے کہا ہے کہ اُن میں پہلے بہاء اللہ مد نظر تھا پھر مرزا صاحب۔مگر یہ دونوں باتیں کسی طرح جمع نہیں ہوسکتیں۔فتنہ بہائی کے رونما ہونے کی وجہ میں سمجھتا ہوں اس فتنہ کے پیدا ہونے کی غرض یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں اس مذہب کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے۔آج تک جو قوم ہمارے مقابلہ پر آئی اُس کو خدا نے تباہ کیا۔اب اس کو خدا نے لا کر کھڑا کیا ہے۔اب بھی ویسی ہی مثال ہو گی کہ ہم کونے کا پتھر ہیں جو اس پر گرے گا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور جس پر یہ گرے گا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ہم اللہ کے وعدوں اور نصرتوں پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ قوم احمد یہ جماعت سے تھوڑے عرصہ میں مٹائی جائے گی اور اس کا سارا گند ظاہر ہو جائے گا۔خلافت ترکیہ دوسرا اہم مسئلہ تیر کی خلافت ہے جس کو ہمارے مقابلہ پر پیش کر کے ہماری ہتک کی جاتی تھی اُس کو خدا نے مٹا دیا ہے۔کچھ عرصہ ہوا بٹالہ