خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 83
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء اور اللہ دتہ۔ان کے متعلق یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ وہ مخفی طور پر بہائیوں کی تعلیم پھیلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ایک کے متعلق تو سُنا ہے کہ وہ آیا ہی اسی غرض سے تھا اور دوسرے اُس کے اثر کے نیچے آکر بہائی ہو گئے۔مذہبی معاملہ میں ہماری فراخ حوصلگی جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں۔مذہبی معاملہ میں ہم لوگ تنگ دل نہیں ہیں۔ہم ایسے حوصلہ سے مخالفین کی باتیں سنتے ہیں کہ دوسرے برداشت ہی نہیں کر سکتے۔میں اپنا ہی ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔مصر کے سفر میں تین آدمی ہندوستانی اُسی جہاز پر سوار تھے جس پر میں تھا۔وہ ولایت پڑھتے تھے ، گھر ملنے آئے تھے اور پھر واپس جا رہے تھے۔وہ تین سال ولایت رہ آئے تھے اور اس رہائش سے دہر یہ ہو گئے تھے۔اُن کو جو احمدیت سے مخالفت ہو سکتی تھی وہ ظاہر ہے۔اُنھوں نے مجھ سے مذہبی گفتگو شروع کی جو نہی اُنہوں نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا اُنھوں نے سمجھا کہ یہ مذہبی آدمی ہے اس لئے گفتگو کرنے لگ گئے۔شروع گفتگو میں ہی انہیں معلوم ہو گیا کہ میں احمدی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں اس سے وہ اور بھی جوش دکھانے لگے۔حضرت مسیح موعود اور سلسلہ پر ایسے گندے حملے کرنے لگے کہ ان کو برداشت کرنا مشکل تھا لیکن میں نے انہیں یہ معلوم نہ ہونے دیا کہ میں حضرت مسیح موعود کا لڑکا ہوں تاکہ وہ آزادی سے اعتراض کر سکیں۔اُنھوں نے بڑے بڑے سخت حملے کئے۔جھوٹے ، فریبی ، دُکاندار وغیرہ کہا اور عجیب عجیب تمسخر کرتے رہے۔جب وہ سارے تیر چلا چکے اور میری گفتگو سے دبنے لگے اور اپنے خیالات کی اُنہیں غلطی محسوس ہوگئی اور اُنھوں نے اقرار کیا کہ اُن کے خیالات میں تغیر پیدا ہو گیا ہے تب میں نے بتایا کہ میں حضرت مسیح موعود کا لڑکا ہوں۔اِس پر وہ مجھ سے معافی مانگنے لگے اور کہا کہ آپ نے پہلے کیوں نہ بتایا ؟ میں نے کہا اس لئے نہیں بتایا تھا تا کہ آپ لوگ آزادی سے اعتراض کریں۔اگر میں بتا دیتا تو یورپ کی اُس تہذیب کی وجہ سے جو اُنھوں نے سیکھی تھی یہی کہتے کہ وہ سچے تھے اور جو گند اُن کے دلوں میں تھا اُسے ظاہر نہ کرتے اور وہ دُور نہ ہو سکتا۔اسی طرح تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے یہاں ایک ڈاکٹر آیا جو بہائی تھا اُس کو ہم نے بطور مہمان رکھا ، اپنے مکان میں اُتارا۔وہ اپنے خیالات پھیلاتا رہا۔کئی لوگوں نے کہا کہ اس کو