خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 82
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہم جو ا کٹھے ہوئے ہیں تو محض اس لئے کہ خدا کی رضاء کے ماتحت اور اُس کی منشاء کے ماتحت اسلام کی خدمت کے لئے ایسے امور پر غور کریں کہ جن کا نتیجہ اسلام کی مدد، نصرت ، تائید اور ترقی ہو۔اسی لئے یہاں ہمارا جمع ہونا دینی کام اور عبادت ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اس میں شامل ہونے کے لئے آیا ہے وہ ابْتِغَاءَ لِمَرْضَاتِ اللہ کے لئے آیا ہے پس جب کہ ہماری آمد کی غرض صرف یہی ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کریں تو ہمارے مشورہ ، ہمارے کلام، ہماری باتوں میں یہی مد نظر رہنا چاہئے۔مشورہ دیتے وقت بعض دفعہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ میرے مقابلہ میں یا میری تردید میں فلاں بات کہی گئی ہے اس صورت میں انسان کا نفس جو اس کی تاک میں لگا رہتا ہے کہ اسے بچے رستہ سے دُور کروں جھٹ اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔اُس وقت اُس کے محبت کے جذبات کو سرد اور آنکھ کو دُھندلا کر دیتا ہے اور حسد کا شعلہ جوش مارتا ہے۔اُس وقت یہی بات اس کے مد نظر ہوتی ہے کہ اپنی بات پوری کرے۔اُس وقت کوئی چیز اُسے نہیں روکتی نہ اخلاص روکتا ہے نہ محبت۔میں اُمید کرتا ہوں کہ جو دوست اللہ کی مرضی کے لئے یہاں آئے ہیں وہ اس بات کو مد نظر رکھیں گے اور کوئی بات اشارتا بھی ایسی نہ کریں گے جو خدا کی مرضی کے خلاف ہو اور جس میں حسد اور بغض کا شائبہ ہو۔وہ خدا کے لئے مشورہ دیں گے، خدا کے لئے کسی اور کی تائید کریں گے اور خدا کے لئے کسی بات کی تردید کریں گے۔اس کے بعد مختصراً ان باتوں کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو سال میں پیش آئی ہیں یا جو پچھلی مجلس مشاورت کو مد نظر رکھ کر بیان کرنا ضروری ہیں یا اب جو مجلس منعقدہ ہوئی ہے اس کے لئے ضروری ہیں۔سب سے پہلے اُن امور کو لیتا ہوں جو مجلس مشاورت سے تو تعلق نہیں رکھتے مگر سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ایسے ہیں جن سے واقف کرنا ضروری ہے:۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری جماعت کی طرف منسوب ہونے والے دو فتنہ بہائی تین آدمی جن سے بعض لوگ شناسا ہیں، ان کی دینی حالت اور تقویٰ تو ایسا نہ تھا کہ جماعت میں کوئی رُتبہ رکھتے تھے مگر چونکہ وہ کام ایسے پر تھے کہ لوگ اُن سے واقف تھے اور وہ لوگوں سے واقف اُنھوں نے غداری سے سلسلہ کے خلاف ایسی کارروائیاں کی ہیں کہ جن کی کسی شریف انسان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔وہ تین شخص ہیں محفوظ الحق علمی ، مہر محمد خان