خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 76
خطابات شوری جلد اوّل ۷۶ مشاورت ۱۹۲۳ء دلوں میں اور دماغوں میں ہوتی ہے جن کی مائیں پڑھی ہوئی ہوتی ہیں جو مائیں پڑھی ہوئی ہوتی ہیں وہ اپنے بچوں کو ان ابتدائی مسائل سے آگاہ کر دیتی ہیں جن سے اُن مدارس میں جا کر واسطہ پڑتا ہے۔مثلاً جو بچہ اپنی ماں سے اپنے گھر میں یہ سُنتا رہا ہے کہ زمین گول ہے جب وہ مدرسہ میں جا کر یہ سبق پڑھے گا تو اس کے لئے یہ بات کوئی تعجب انگیز نہیں ہوگی مگر برخلاف اس کے وہ لڑکا جو اپنے گھر میں اس قسم کی باتیں نہیں سنتا رہا بلکہ وہ ان قدیم خیالات کو سنتا رہا ہے جو مروج ہیں جب وہ سکول میں جائے گا تو اس کے لئے ان جدید تحقیقات کے مطابق ثابت شدہ حقیقت کہ زمین گول ہے کا ماننا دقت طلب ہوگا۔پس یہ ضروری اور لازمی ہے کہ عورتوں کو ایک حد تک تعلیم دی جائے۔میرے نزدیک تعلیم دلائی جائے اور جہاں تک ہو سکے احمد یہ مدارس ہونے چاہئیں اور جب تک نہ ہوں سرکاری مدارس میں بھی تعلیم دلائی جائے لیکن وہاں تعلیم دلانا لازمی نہ ہو کیونکہ انسان جن کے ماتحت تعلیم پاتا ہے ان کے اثر کو قبول کرتا ہے۔مردوں اور عورتوں کے دماغ میں فرق ہے۔مسمریزم کا اثر بہ نسبت مرد کے عورت پر زیادہ ہوتا ہے۔اسی طرح عورتیں جن کے ماتحت تعلیم پائیں گی ان کے خیالات سے ضرور متاثر ہوں گی اور پھر ایک دقت یہ ہے کہ عورتوں کی تعلیم پر دے میں ہوتی ہے اس لئے اس کی نگرانی نہیں ہو سکتی اس لئے ہم اس رائے کے خلاف ہیں کہ باوجود تمام خطرات کے پھر تعلیم دلوائی جائے مگر جہاں ان خطرات کا خوف نہ ہو وہاں تعلیم دلوائی جاسکتی ہے۔یہ حکیم جو نماز با جماعت اور قاعدہ میسر نا القرآن عورتوں کے لئے تجویز کی گئی ہے۔اس کی تائید میں بہت زیادہ رائے ہیں اتنی کہ کسی معاملہ میں اتنی اکثریت نہیں لیکن میں اس کے خلاف ہوں۔میں ان لوگوں کے ساتھ متفق ہوں جو کہتے ہیں کہ اتنی تعلیم نہیں ہو سکتی۔میں نے تجربہ کیا ہے کہ جو عورتیں بیعت کرنے آتی ہیں وہ کلمہ تک نہیں پڑھ سکتیں اور یہی حال مردوں کا ہے۔اگر مردوں کا ذمہ لیا جائے کہ وہ پچاس فیصدی بھی اس نصاب کو پورا کریں گے تو سال میں عورتوں کے متعلق بھی ذمہ لیا جا سکتا ہے مگر جب مردوں کے متعلق نہیں تو عورتوں کے متعلق کیسے لیا جا سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ کورس زیادہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ عورتوں کو نماز سادہ اور کلمہ با ترجمہ پڑھا دیا جائے۔ہاں جو جانتی ہیں ان کو زیادہ تعلیم