خطابات — Page 60
60 شکر گزاری کے پہلے سے بڑھ کر جذبات ابھرے ہوں گے۔پس اس جوش اور ولولہ اور شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ خلافت احمدیہ کی نئی صدی میں داخل ہو جائیں۔یہ 27 مئی کا دن ہمارے اندر ایک نئی روح پھونک دے، ایک ایسا انقلاب برپا کر دے جو تا قیامت ہماری نسلوں میں یہی انقلاب پیدا کرتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ کا اس دور میں ہمیں داخل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وو درخت وجود کی سرسبز شانھیں بنے کی ہم کوشش کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔آپ علیہ السلام اپنی جماعت کو کس پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں ، کتنا حسن ظن رکھتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: جو کچھ ترقی اور تبدیلی ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے وہ زمانہ بھر میں اس وقت کسی دوسرے میں نہیں ہے، لے کیا یہ حسن ظن ہم سے تقاضا نہیں کرتا کہ ہم اپنے اندر انقلاب پیدا کرنے کی پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں؟ اپنے عہد کو پورا کرنے کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہیں؟ اللہ تعالی کے اس احسان پر جو خلافت کی صورت میں اس نے ہم پر کیا اپنی روحانی ترقی کی نئی منزلوں کی نشاندہی کریں؟ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اپنے عہد بیعت کو نبھانے کی پہلے سے بڑھ کر کوشش کریں؟ اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر، خلافت سے وفا اور اطاعت کے معیار بلند سے بلند تر کرتے چلے جائیں؟ اس احسان کے شکرانے کے طور پر اپنوں اور غیروں میں پیار اور محبت کے نغمے بکھیر تے چلے جائیں ؟ یقینا یہی نیکیاں اور شکر گزاری ہمارا صلح نظر ہونی چاہئیں۔یقینا پیار اور محبت الحکم جلد 12 نمبر 30 صفحہ 1-2 مؤرخہ 26 اپریل 1908ء۔بحوالہ ملفوظات جلد 5 صفحہ 536 مطبوعہ 2003ء