خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 110

خطابات — Page 43

43 1 یہ سمجھتے تھے کہ احمدیت کا پودا اپنی ابتدائی حالت میں ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد نعوذ باللہ ہی ختم ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے یہ درخت لگا دیا ہے اپنی رحمت اور قدرت کا ایسا درخت لگا دیا ہے جس کا مقدر پھلنا پھولنا اور بڑھنا ہے۔جس کی جڑیں زمین میں مضبوط ہیں اور جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر جس دوسری قدرت کی خوشخبری دی تھی اور یہ اعلان فرمایا تھا کہ وہ دائمی ہے، وہ اللہ تعالی کی رحمت سے لگائے ہوئے درخت کے ثمر آور ہونے اور تناور ہونے کی پیشگوئی تھی۔وہ درخت جس کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا، جس نے تمام دنیا کی سعید روحوں کو اپنے سایہ عاطفت میں پناہ دینی تھی اور دے رہا ہے وہ ان بونوں کی ٹھوکروں سے بھلا کہاں ہلنے والا تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ فرمایا تھا کہ ”میں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں، لے یہ الہام ہر دن بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس موقع پر لندن، قادیان اور ربوہ سے بلند ہونے والے نعروں پر حضور انور نے فرمایا۔نعروں سے جوش بے شک اپنا نکالیں ليكن ابھی میں نے کافی کچھ کہنا ہے اس لئے ذرا تھوڑا سا صبر کر کے نعرے لگائیں خاص طور پر قادیان والے زیادہ جوش میں ہیں) اخبار الحکم جلد 11 نمبر 46 مؤرخہ 24 دسمبر 1907ء صفحہ 4۔بحوالہ تذکرہ صفحہ 630 ایڈیشن چہارم مطبوعہ 2004ء