خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 110

خطابات — Page 41

41 بڑے نرم الفاظ میں انہوں نے بڑی عزت سے نام لے کے ذکر کیا ہے لیکن وہی بات کہ احمدی اس بیعت سے نکل جائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کی ہے اور آپ کے دعوئی سے انکاری ہوجائیں۔تو یہ حالات اس وقت پیدا ہوئے۔وہ لوگ جن کی فطرت میں فساد ہے وہ تو ہرزہ سرائیاں کر ہی رہے تھے سنجیدہ طبع لوگ بھی اپنے دلوں کے غبار نکالنے لگے۔لیکن چونکہ ان کی صرف دنیا کی آنکھ تھی اس لئے خدائی وعدوں کی طرف ان کی نظر نہ گئی اور نہ جاسکتی تھی۔ان کو خدا کے اس مسیح کے اعلان کا فہم ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ میں جب جاؤں گا تو خدا تعالیٰ تمہیں دوسری قدرت دکھائے گا۔اور ایک دنیا نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کس شان سے مسیح محمدی کے حق میں پورے ہوئے۔ان کی تعلیاں اور ان کی گھٹیا خواہشیں ان کے منہ پر ماری گئیں۔جس لٹریچر کو جلانے کی تلقین کی جارہی تھی آج یہی لٹریچر دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر سعید روحوں کی رہنمائی کا باعث بن رہا ہے۔جس شخص کے نام کو تاریخ سے نکالنے کی باتیں ہو رہی تھیں آج اس کی جے کے نعرے یورپ ،امریکہ ،ایشیا اور افریقہ میں لگ رہے ہیں۔آج حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا نام تصویر اور لٹریچر ہواؤں کے دوش پر دنیا کے ہر خطہ اور ہر گھر میں پہنچ رہا ہے۔جو یہ کہہ رہے تھے کہ مخالفین کی شورش جماعت احمد یہ برداشت نہیں کر سکے گی ، آج وہ زندہ ہوں تو دیکھیں کہ شورش برداشت کرنے کا تو کیا سوال، احمدیت کا نام دنیا کے ہر شہر میں پہنچ چکا ہے اور مخالفین، احمدیت کا نام سن کر دنیا کے ہر ملک میں پہلو بچاتے ہوئے راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ہاں مغلظات جتنی ان سے سنی ہوں، سن لیں۔اگر ان میں جرات ہے تو ہر اسلامی ملک کا