خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 110

خطابات — Page 36

36 سمجھ لو کہ جب تک کہ تم میں عمل صالح نہ ہو صرف ما نا فائدہ نہیں کرتا“ لے فرماتے ہیں کہ " عمل صالح ہماری اپنی تجویز اور قرار داد سے نہیں ہوسکتا۔ہر ایک کی اپنی مرضی کے مطابق عمل صالح نہیں ہے۔عمل صالح کی تشریح ہر شخص نے خود نہیں کرنی۔فرمایا کہ ” عمل صالح ہماری اپنی تجویز اور قرار داد سے نہیں ہو سکتا۔اصل میں اعمال صالحہ وہ ہیں جس میں کسی نوع کا کوئی فسادنہ ہو۔کیونکہ صالح فساد کی ضد ہے جیسے غذا طیب اس وقت ہوتی ہے کہ وہ نہ کی ہو نہ سڑی ہوئی ہو اور نہ کسی ادنی درجہ کی جنس کی ہو بلکہ ایسی ہو جو فوراً جزو بدن ہو جانے والی ہو۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ عمل صالح میں بھی کسی قسم کا فساد نہ ہو۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو اور پھر آنحضرت ﷺ کی سنت کے موافق ہو۔اور پھر نہ اس میں کسی قسم کا کسل ہو، نہ مجب ہو، نہ ریاء ہو، نہ وہ اپنی تجویز سے ہو۔جب ایسا عمل ہو تو وہ عمل صالح کہلاتا ہے اور یہ کبریت احمر ہے“۔یعنی ایک بہت نایاب چیز ہے اور ایک بہت قیمتی چیز ہے۔یہی عمل ہے جو مومن کو اپنانا چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی حالت پیدا کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ خلافت سے فیض پاتے رہیں گے۔ایسے لوگ ہوں گے جو خلافت کی حفاظت کرنے والے ہوں گے اور خلافت ان کی حفاظت کرنے والی ہوگی۔اور یہ فیض اور حفاظت کے نظارے تبھی نظر آئیں گے جب اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھا میں گے۔البدر - نمبر 9۔جلد اوّل مورخہ 26 دسمبر 1902، صفحہ 66 کالم 2-3 الحکم- جلد 8 نمبر 14-15 مورخہ 30 اپریل۔و 10مئی1904 ءصفحہ 1 کالم2۔3