خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 110

خطابات — Page 100

100 وجود کی قربانی سے چاہنا نہ اور طریق سے اور اس نیت اور اس ارادہ کو عملی طور پر دکھلا دینا ہے یہ وہ مقام ہے جو ایک احمدی کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اس بات کو سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی حقیقت کامل فرمانبرداری ہے اور اپنے وجود کی قربانی ہے اور یہی کامل فرمانبرداری ہے جو بہترین اعمال کی انتہاء ہے اور یہ فرمانبرداری اور کامل اطاعت دکھانے والے قربانی کے لئے تیار رہنے والے بھی وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے پیغام کی نشر و اشاعت میں ہاتھ بٹانے والے ہیں اور اس کام کے لئے اپنا مال، جان اور وقت قربان کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ - یعنی اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور نیک اور صالح عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔یہ حکم پھر ای طرف توجہ پھیرتا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف بلانے والے کو اپنے عمل بھی اس تعلیم کے مطابق ڈھالنے چاہئیں جس کی طرف دوسرے کو بلا رہا ہے، جس پیغام کی اشاعت میں ممد و معاون بن رہا ہے۔اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تیک مکمل طور پر اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کا جو اپنی گردن پر نہ ڈالے۔اور جب یہ صورتحال پیدا ہوگی اور جب ہر احمدی کی یہ کیفیت ہوگی تو وہ جہاں خلافت کے انعام سے فیض پانے والا ہوگا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 54۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 368 سورة حم السجدہ - آیت 34