خطابات — Page 99
99 لئے، اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بنانے کے لئے، خلافت احمدیہ کا ہاتھ بٹاتے ہوئے ، اشاعت اسلام کے کام میں حصہ لے تا کہ ہمیشہ ان لوگوں میں شامل رہیں جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُم وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا 1 اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان لانے والوں ، مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا دیا تھا اور جو دین اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے وہ اسے مضبوطی سے ان کے لئے قائم کر دے گا اور ان کے خوف کی حالت کے بعد امن کی حالت میں تبدیل کر دے گا۔پس وعدہ ہے ایمان میں مضبوطی والوں کے ساتھ اور اعمال صالحہ بجالانے والوں کے ساتھ کہ وہ خلافت کے انعام سے فیض پاتے رہیں گے کیونکہ یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اس دین کو اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند کیا۔اللہ تعالیٰ نے کون سا دین پسند کیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اور یہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے) کہ رضیت لکم الاسلام دینا تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” میں تمہارا دین اسلام ٹھہرا کر خوش ہوا یعنی دین کا انتہائی مرتبہ وہ امر ہے جو اسلام کے مفہوم میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ محض خدا کے لئے ہو جانا اور اپنی نجات اپنے سورۃ النور۔آیت 56 سورة المائدة - آيت 4