خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 110

خطابات — Page 95

95 قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے پورا ہونے کے گواہ بن کر مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو گئے اور ایک لڑی میں پروئے گئے۔جبکہ دوسرے مسلمان اس انکار کی وجہ سے آپس میں پھٹے ہوئے ہیں اور اُن کے ہر کام میں بے برکتی ہے باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں سے تمکنت اور رعب کا وعدہ فرماتا ہے، کمزوری اور محتاجی کا یہ مسلمان شکار ہیں۔چاہے وہ اسلامی ملکوں کے لیڈر ہوں یا ملکوں کی حکومتیں ہوں ، آپس کے معاملات کو طے کرنے کے لئے غیروں کی جھولی میں جا کر گرتے ہیں۔ایک ہی ملک میں رہنے والے مسلمان لیڈ ر غیروں کو آواز میں دیتے ہیں کہ آؤ اور ہماری مدد کرو، اسلامی حکومتیں ہیں تو وہ غیر مسلم حکومتوں کی مرضی پر اپنے معاملات طے کرتی ہیں اور چلاتی ہیں۔مسلمانوں کی ملکی دولت ہے تو وہ غیر مسلموں ج کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔اگر لیڈروں اور ملکی سربراہوں کو کوئی دلچسپی ہے تو صرف اتنی کہ ہماری جائیدادیں بن جائیں ، ہمارے بینک بیلنس بن جائیں ، ہم امیر ہو جائیں۔ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے، اسلامی ملکوں کے اندرونی فسادات کو روکنے کے لئے غیر اسلامی ملکوں کی فوجوں سے مدد لی جاتی ہے۔یہ سب نتیجہ ہے اُس نافرمانی کا جو خدا تعالیٰ کے کلام کو نہ مان کر اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے اس زمانہ کے امام کا انکار کرتے ہوئے کی گئی ہے۔بجائے اس کے کہ آج مسلمان ممالک اپنی دولت کا صحیح استعمال کرتے اور مسیح موعود کے ماننے والوں میں شامل ہو کر تکمیل دین کے لئے آخری مقصد یعنی اشاعت دین کا کام سرانجام دیتے، اس دولت کو مسیح محمدی کے قدموں میں رکھ کر غیر مسلم دنیا میں اشاعت اسلام کے اہم فریضہ میں ہاتھ بٹاتے ، آنحضرت ﷺ کے اس عاشق صادق کی مخالفت کر کے نہ