خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 110

خطابات — Page 96

96 دین کے رہے اور نہ دنیا کے۔اور جب تک یہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ خدا تعالی کا وعدہ آخرین منھم پورا ہو چکا ہے، آنے والا بیج آچکا ہے، اس کی مخالفت کی بجائے اس کی مدد کرنا ہمارا فرض اولین بنتا ہے، اُس وقت تک وہ اسی موجودہ حالت سے دو چار ہوتے رہیں گے اور ذلت کا سامنا کرتے رہیں گے۔پس مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر ایک احمدی کا ایمان اور زیادہ بڑھتا ہے، اللہ کے حضور شکر گزاری کے جذبات اور زیادہ ابھرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں اس نعمت سے نوازا ہے۔پھر یہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، آنحضرت ﷺ کے بروز کے طور پر مبعوث ہوئے اور قرآنی علم وعرفان کے خزانے شائع کر کے اسلام کی اشاعت کے سامان پیدا فرما دیئے اور مخالفین اسلام پر اتمام حجت کر دی، دلائل سے ان کے منہ بند کر دیئے اور اپنی زندگی میں قربانیاں کرنے والوں کی ایسی جماعت قائم کردی جنہوں نے صحابہ کا رنگ اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور انہوں نے الله عنهم اور رضواعنه کا درجہ پایا بلکہ آنحضرت ﷺ نے جو پیشگوئی صلى الله فرمائی تھی کہ آخرین میں جو میرا بروز کھڑا ہوگا وہ صرف اپنی زندگی تک ہی اشاعت اسلام کا کام نہیں کرے گا بلکہ اس کے بعد خلافت کا سلسلہ بھی شروع ہوگا جو دائمی ہوگا۔پھر مسیح محمدی نے بھی یہ اعلان فرما دیا کہ میرے سلسلہ کی سچائی کی ایک بہت بڑی دلیل یہ ہوگی کہ میرے بعد نظام خلافت چلے گا جو اشاعت اسلام کے کام کو آگے بڑھائے گا۔جو میرے مشن کی تکمیل کرے گا اور جب تک ان باتوں کی تکمیل نہ ہو جائے اور جب تک وہ مشن جو آنحضرت ﷺ کے پیغام کو دنیا کے کونہ کونہ میں پہنچانے کا ہے مکمل نہ ہو جائے۔جب تک تمام دنیا پر اتمام حجت نہ ہو جائے ، قیامت رضی الله