خطابات — Page 49
49 کرنے کی کوشش کرنی شروع کر دی۔اس نظارہ کے بیان کرنے والے لکھتے ہیں کہ یوں لگتا تھا کہ فرشتے لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس انتخاب کی طرف لا رہے ہیں۔آخر یہ نظارہ دیکھ کر خلافت کے منکرین جو انجمن اور انجمن کے پیسے کے مالک تھے وہاں سے غائب ہو گئے اور یوں اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے وعدہ کے مطابق خلافت احمدیہ کے ذریعہ جماعت کو تمکنت عطا فرمائی اور ان کے خوف کو امن میں بدلا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے اس اولو العزم فرزند اور مصلح موعود کے 52 سالہ دور خلافت میں جماعت نے ترقی کے وہ نظارے دیکھے جو اللہ تعالیٰ کی خاص تائید کے بغیر ممکن نہ تھے۔خزانہ خالی کر کے جانے والے اور یہ دعویٰ کرنے والے کہ قادیان میں اب عیسائیوں کی حکومت ہوگی ، آج زندہ ہوں تو دیکھیں کہ قادیان میں عیسائیوں کی تو کیا حکومت ہوئی تھی ، اولو العزم موعود بیٹے نے ہزاروں عیسائیوں کو مسیح محمدی کے جھنڈے تلے جمع کر دیا ہے۔احرار کا فتنہ اٹھا تو جب انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے تو حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک جدید کا آغاز کر کے تمام دنیا میں جماعت کے تبلیغی مشنوں کے جال پھیلانے کی بنیاد ڈال دی۔قرآن کی تفسیر اور دوسر الٹریچر جو ہمیشہ کے لئے آپ کے علوم ظاہری و باطنی سے پُر ہونے کی پیشگوئی پر گواہ بن گیا وہ دنیا میں پھیل گیا۔ہجرت کا وقت آیا تو اس اولوالعزم نے جماعت کی ایسی راہنمائی فرمائی کہ کم از کم نقصان کے ساتھ افراد جماعت پاکستان میں آکر آباد ہوئے۔تمام تر مشکل حالات کے باوجود قادیان میں اپنے بیٹوں سمیت ایسے قربانی کرنے والے لوگوں کو