خطابات — Page 48
48 پھر آخر كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ کے مطابق 13 مارچ 1914 ء کو آپ اپنے رفیق اعلی سے جاملے۔اس وقت جماعت میں پھر ایک زلزلہ کی سی کیفیت تھی۔وہ سرکردہ انجمن کے عمائدین جو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی وجہ سے چُپ تھے انہوں نے پھر سر اٹھایا اور کوشش کی کہ خلافت کی بجائے انجمن کو تمام اختیارات دئے جائیں اور انجمن سارے معاملات کی کرتا دھرتا بن جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی وفات کی وجہ سے مخلصین تو غم کی وجہ سے نڈھال تھے۔نئی قدرت کے لئے دعاؤں میں مشغول تھے لیکن یہ عمائدین جو اپنے آپ کو بڑا اعلم والا سمجھتے تھے اور پھر ساز باز میں لگے ہوئے تھے ان لوگوں نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی لیکن آپ نے یہی فرمایا کہ جماعت کا ایک خلیفہ بہر حال ہونا چاہئے۔انجمن پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔اور فرمایا کہ یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ان لوگوں کو کہا کہ آپ لوگ جس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے میں اور میرا خاندان سچے دل سے اس کی بیعت کریں گے۔آپ میرے سے خوف زدہ نہ ہوں۔مجھے کوئی شوق نہیں خلیفہ بننے کا۔لیکن اپنے زعم میں اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والے ان عالموں فاضلوں کا پر نالہ و ہیں رہا کہ نہیں انجمن جو ہے وہی صحیح حق دار ہے۔آخر جب ان کی یہ ڈھٹائی نہیں گئی تو جماعت کا ایک بڑا حصہ مسجد نور میں جمع ہوا اور چودہ مارچ 1914ء کو خلافت ثانیہ کا انتخاب ہوا اور دو ہزار کے مجمع میں ہر طرف سے حضرت میاں صاحب ، حضرت میاں صاحب یعنی حضرت میرزا محمود احمد صاحب کے نام کی آوازیں آنے لگیں اور لوگوں نے ایک دوسرے کے سروں پر سے پھلانگتے ہوئے بیتاب ہو کر حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد کے ہاتھ پر بیعت