خطابات — Page 50
50 چھوڑا جنہوں نے ہر قیمت پر شعائر اللہ کی حفاظت کی۔پاکستان میں مرکز احمدیت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ایک بے آب و گیاہ بستی کو اپنی عظیم راہنمائی اور فراست سے ایک سرسبز شہر بنا دیا جس کے نظارے آج بھی ہم کر رہے ہیں۔پس وہی نوجوان جو 25 سال کا تھا اور جس کے مقابلہ پر بڑے بڑے عالم فاضل اور سر کردہ تھے جب خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہوا، جب اللہ تعالیٰ کی نظر انتخاب اس پر پڑی ، جب اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق قدرت ثانیہ کا مظہر بنا تو ایک کامیاب جرنیل کی طرح میدان پر میدان مارتا چلا گیا اور اپنے ماننے والوں اور مسیح محمدی کے غلاموں کی حالت کو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے خوف کے بعد امن میں بدلتا چلا گیا۔آخر الہی تقدیر کے مطابق جب آپ نومبر 1965ء میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قدرت ثانیہ کے تیسرے مظہر کا جلوہ دکھایا۔خلافت ثانیہ کا 52 سالہ دور اتنا لمبا عرصہ تھا جس میں کئی نسلوں نے آپ سے فیض پایا۔اس زمانہ میں ایک ذاتی تعلق ہر احمدی کا آپ سے پیدا ہو چکا تھا۔آپ کی وفات کا صدمہ لگتا تھا که جماعت برداشت نہیں کر سکے گی۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ موجود ہو تو پھر فوراًہی خدا تعالیٰ خوف کو امن میں بدل دیتا ہے۔چنانچہ یہی نظارہ ہم نے خلافت ثالثہ کے دور میں دیکھا۔ہر قدم پر جماعتی ترقی ، افریقہ میں سکولوں ،ہسپتالوں کا قیام تبلیغی میدان میں آگے بڑھنا۔پھر 1974 ء کے حالات جو پاکستان کی جماعت کے لئے بڑے سخت تھے بلکہ خلیفہ وقت کی پاکستان میں موجودگی کی وجہ سے تمام دنیا کی جماعتوں کے لئے بڑے پریشان کن تھے لیکن خلافت کی ڈھال کے پیچھے جماعت ان خوفناک حالات سے کامیاب ہو کر نکلی اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگئی۔